پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے حال ہی میں آئینی ترمیم کے مسودے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے سیاسی رنگ دینے کا الزام عائد کیا ہے۔ پارٹی کا مؤقف ہے کہ یہ ترمیم ملک کے آئینی اور قانونی نظام کو کمزور کرنے کی کوشش ہے اور کسی بھی قسم کا این آر او دینا ملکی مفادات کے خلاف ہوگا۔
پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے اس معاملے پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت ملک کے قوانین کو ذاتی مفادات کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ ترمیم دراصل کرپٹ عناصر کو فائدہ پہنچانے کی ایک کوشش ہے، جو ملکی عدالتی نظام کی شفافیت پر سوال اٹھاتی ہے۔
پارٹی قیادت نے واضح کیا ہے کہ وہ کسی بھی ایسی کوشش کی بھرپور مخالفت کرے گی جو انصاف کے اصولوں کے خلاف ہو۔ پی ٹی آئی کے مطابق، این آر او جیسی رعایت دینے سے ملک میں احتساب کے عمل کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچے گا اور عوام کا عدالتی نظام پر اعتماد متزلزل ہوگا۔
موجودہ حکومت کی جانب سے اس ترمیم کا دفاع کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس کا مقصد نظام کو مضبوط کرنا اور آئینی مسائل کو حل کرنا ہے۔ تاہم، حزبِ اختلاف کا مؤقف ہے کہ یہ ترمیم درحقیقت طاقتور افراد کو قانونی تحفظ فراہم کرنے کی ایک کوشش ہے۔
یہ تنازع ایک بار پھر ملکی سیاست میں تقسیم اور کشیدگی کو اجاگر کرتا ہے، جہاں سیاسی جماعتیں اپنے اپنے مفادات کے لیے آئینی مسائل کو بنیاد بناتی ہیں۔ عوام اس ساری صورتحال کو گہری تشویش کے ساتھ دیکھ رہے ہیں اور ملک کے عدالتی نظام کی غیرجانبداری اور شفافیت کو برقرار رکھنے کی اپیل کر رہے ہیں