آفتاب وڑائچ

پاکستان میں اداروں کا تصادم کوئی نئی بات نہیں ہے۔ تاریخ پر نظر رکھنے والے افراد اس بات سے بخوبی واقف ہوں گے کہ یہ تصادم کبھی اپنی طاقت کی دھاک بٹھانے کے لیے، کبھی ذاتی انا کی تسکین کی خاطر، تو کبھی ذاتی مفادات کے تحفظ اور حصول کے لیے وقوع پذیر ہوتے ر ہے ہیں۔

گزشتہ دنوں صوبہ پنجاب کے ضلع بہاول نگر میں بھی کچھ ایسے ہی عوامل پنجاب پولیس اور پاک فوج کے درمیان ایک ناخوش گوار واقعہ کا سبب بنے۔

اس واقعہ کی ایک ایف آئی آر تھانہ مدرسہ کے اے ایس آئی نعیم کی مدعیت میں درج ہوئی۔ جس کے مطابق پولیس نے چک سرکاری روڈ پر دو مشکوک اشخاص کو روکا۔ ان میں سے ایک شخص محمد عرفان سے 30 بور پستول برآمد ہوا اور اس کو گرفتار کر لیا گیا۔ جب کہ دوسرا شخص فرار ہونے میں کام یاب ہو گیا۔ گرفتار ملزم کی نشاندہی پر جب پولیس اہلکار فرار ہونے والے شخص کے گھر پہنچے تو اہل خانہ نے دیگر افراد کی مدد سے ان کو یرغمال بنا لیا۔ جن کو پولیس کی اضافی نفری آنے پر آزاد کروایا گیا۔ اسی دوران پولیس نے مزید تین افراد محمد ادریس، خلیل اور ان کے والد انور کو بھی گرفتار کر لیا۔ پولیس کے مطابق خلیل پاک فوج کا حاضر سروس اہلکار ہے۔

جب ڈی پی او بہاول نگر سے اس واقعہ کی جواب طلبی ہوئی تو انھوں نے ایس ایچ او سمیت چار پولیس اہلکاروں کو معطل کرتے ہوئے، ان کے خلاف ایف آئی آر کے اندراج کا حکم صادر کر دیا۔ یہ ایف آئی آر تھانہ مدرسہ کے نئے ایس ایچ او انسپیکٹر سیف اللہ حنیف کی مدعیت میں درج کی گئی۔ ایف آئی آر میں پولیس اہلکاروں کے خلاف اختیارات کے غلط استعمال اور ملزمان کو غیر قانونی طور پر محبوس رکھنے کے الزامات عائد کیے گئے۔ معطل ایس ایچ او سمیت ان چاروں پولیس اہلکاروں کو حوالات میں بند کر دیا گیا۔

اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی متعدد ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے۔ کس طرح پاک فوج کے باوردی اہلکار جو سرکاری اسلحہ سے لیس ہیں، تھانے میں گھس کر پولیس اہلکاروں کو تشدد کا نشانہ بناتے ہیں اور ان کی تذلیل کرتے ہیں۔ تھانے میں توڑ پھوڑ کی جاتی ہے اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا جاتا ہے۔

وطن عزیز میں یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ جب افواج پاکستان اور پولیس میں جھگڑا ہوا ہو۔ ماضی میں اس کی کئی مثالیں ملتی ہیں۔

مثال کے طور پر مارچ 2022 میں قذافی اسٹیڈیم لاہور میں پاکستان اور آسٹریلیا کی ٹیموں کے درمیان کرکٹ میچ تھا۔ تب پاک فوج اور لاہور پولیس کے مابین ایک نا خوش گوار واقعہ پیش آیا۔

مئی 2021 میں نیوی اور پولیس اہلکاروں کے درمیان کراچی کے علاقے ہاکس بے میں جھگڑا ہوا
تھا۔ جس میں پانچ پولیس اہلکار زخمی ہوئے تھے۔

جولائی 2021 میں کراچی کے علاقے ڈی ایچ اے میں پاک فوج اور پولیس اہلکاروں کے درمیان جھگڑا ہوا تھا۔ بعد میں جس میں پاک فوج کے اہلکاروں نے کلفٹن تھانے میں جاکر مارپیٹ کی تھی۔

2020 میں آئی جی سندھ کو رینجرز کی جانب سے مبینہ طور پر اغوا کرنے کا الزام بھی سامنے آیا۔

ستمبر 2016 میں پاک فوج کے دو افسران کو قوانین کی خلاف ورزی پر موٹروے پولیس کے اہلکاروں کی جانب سے روکنے پر مبینہ طور پر اہلکاروں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

بہاول نگر کے واقعہ کی تا حال کسی تھانے میں ایف آئی آر درج نہیں ہوئی۔ شاید مضروب اہلکاروں نے ابھی تک محکمہ ہذا کو ایف آئی آر کے اندراج کے لیے درخواست نہ دی ہو۔ یا پھر کوئی اور وجہ ہو؟ ’کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے‘ ۔ حالاں کہ قانون کے مطابق قابل دست اندازی جرائم میں ہر شہری کو ابتدائی اطلاعی رپورٹ درج کروانے کا حق حاصل ہے۔ اگر ان ادنیٰ اہلکاروں کی جگہ کوئی اعلیٰ پی ایس پی افسر ہوتا تو شاید صورت حال مختلف ہوتی۔

اس واقعہ کو پنجاب پولیس کی اعلیٰ قیادت اور پاکستان کے وزیر داخلہ نے ایک معمولی واقعہ قرار دیا ہے۔

اگر اس ”معمولی واقعہ“ میں ذمہ داران کو آئین اور قانون کے مطابق قرار واقعی سزا نہ دی گئی تو مستقبل میں کئی ”غیر معمولی“ واقعات کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔

آئی جی پنجاب پولیس نے پولیس کا مورال بلند کرنے کے لیے ایک ویڈیو پیغام جاری کیا جس میں انھوں نے پنجاب پولیس کی ویلفیئر کے متعلق اپنے اقدامات اور کارناموں کا تفصیل سے ذکر کیا ہے۔ یہ بھی فرمایا ہے کہ ”سوشل میڈیا پر اس واقعے کو ایسے پیش کیا گیا جیسے خدا نخواستہ اداروں کے درمیان ٹکراؤ کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔“

جناب آئی جی صاحب افراد ہی سے ادارے بنتے ہیں اور ہر اہلکار اپنے ادارے کی نمائندگی کر رہا ہوتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ کچھ اداروں میں اعلیٰ و ادنیٰ کی تفریق رکھی جاتی ہے۔

ملازمین کا مورال بلند کرنے کے لیے آپ کا ایک ویڈیو بیان کافی نہیں ہے۔ اگر آپ واقعی ان کا مورال بلند کرنا چاہتے ہیں، تو پھر آپ کو ان کی دادرسی کر کے ان کی عزت نفس بحال کرنی پڑے گی۔

جن ممالک میں آئین اور قانون کی حکمرانی اور بالادستی ہوتی ہے، وہاں کوئی طاقت ور ادارہ یا با اثر فرد کسی دوسرے ادارے یا فرد کے معاملات میں مداخلت نہیں کر سکتا۔ ادارے اور افراد اپنی حدود و قیود میں رہتے ہوئے اپنے فرائض سرانجام دیتے ہیں۔

اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اس واقعہ کی صاف اور شفاف تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داران کو آئین اور قانون کے مطابق سخت سزائیں دی جائے تاکہ عام شہریوں کا قانون پر اعتماد بحال ہو سکے۔

کہیں طاقت اور اختیارات کا ناجائز استعمال مملکت خداداد کو اس نہج پر نہ لے آئے کے جہاں یقین ہو جائے کہ جس کی لاٹھی اس کا پاکستان۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے