نائب امیر جماعت اسلامی نے حال ہی میں حکومت کی پیش کردہ آئینی ترمیم کو سختی سے مسترد کر دیا ہے، جسے انہوں نے قومی مفادات کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ترمیم عوامی مسائل کے حل کے بجائے مخصوص سیاسی مفادات کو پورا کرنے کے لیے تیار کی گئی ہے، جو ملک کے آئینی ڈھانچے کو کمزور کر سکتی ہے۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ جماعت اسلامی کسی بھی ایسی قانون سازی کی مخالفت کرے گی جو انصاف اور شفافیت کے اصولوں کے خلاف ہو۔ ان کے مطابق یہ ترمیم ملک میں جاری مسائل کو بڑھا سکتی ہے اور عوام کی مشکلات میں اضافہ کرے گی۔
نائب امیر نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوام کے مسائل پر توجہ دے، خاص طور پر مہنگائی، بے روزگاری، اور کرپشن جیسے اہم مسائل کو حل کرنے کے لیے عملی اقدامات کرے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کا مؤقف ہمیشہ عوامی مفادات کا تحفظ رہا ہے اور وہ کسی بھی ایسی کوشش کا حصہ نہیں بنے گی جو قومی مفادات کے منافی ہو۔
حزب اختلاف اور مختلف سیاسی حلقوں نے بھی اس ترمیم پر تحفظات کا اظہار کیا ہے، جس سے سیاسی کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ عوامی حلقے اس صورتحال کو تشویش کی نظر سے دیکھ رہے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ ملک کے فیصلے قومی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جائیں گے۔