ایران نے موساد سے وابستہ سائبر ٹیم کے سربراہ کو پھانسی دے دی

ایران نے موساد سے وابستہ سائبر ٹیم کے سربراہ کو پھانسی دیدی

ایرانی عدالتی حکام نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیلی خفیہ ادارے موساد سے وابستہ ایک سائبر جاسوسی نیٹ ورک کے مرکزی کردار کو پھانسی دے دی گئی ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق، مذکورہ شخص پر الزام تھا کہ وہ ملکی تنصیبات، نیوکلیئر پروگرام اور حساس اداروں کے ڈیٹا تک رسائی کے لیے اسرائیل کے ساتھ مل کر سرگرم تھا۔ عدالتی تحقیقات اور پیش کردہ ثبوتوں کی بنیاد پر اسے دہشتگردی اور ریاست سے غداری کا مرتکب قرار دیا گیا۔

ذرائع کے مطابق، گرفتار شخص کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی، تاہم بتایا گیا ہے کہ وہ ایک اعلیٰ سطح کی سائبر ٹیم کا سربراہ تھا جس نے گزشتہ چند برسوں میں متعدد حساس سرورز تک غیر قانونی رسائی حاصل کی۔ ایرانی سیکیورٹی اداروں نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نیٹ ورک کو مکمل طور پر ناکارہ بنا دیا گیا ہے۔

ابھی تک اسرائیل یا موساد کی جانب سے اس کارروائی پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، ایران کا یہ فیصلہ اس بات کی علامت ہے کہ وہ اپنی ملکی سلامتی اور سائبر دفاع کے تحفظ کے لیے کسی بھی بیرونی مداخلت کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں۔