ایرانی ہیکرز نے حال ہی میں ایک منظم سائبر حملہ کیا، جس میں امریکی سیاست سے متعلق اہم معلومات چوری کی گئیں اور مبینہ طور پر یہ معلومات صدر جو بائیڈن کی انتخابی مہم کو فراہم کی گئیں۔ اس واقعے نے امریکی حکام اور سائبر سیکیورٹی ماہرین کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق، اس حملے کے پیچھے ایرانی حکومت سے منسلک ہیکنگ گروپ کا ہاتھ ہے، جو کئی سیاسی شخصیات اور اداروں کے ای میل اکاؤنٹس تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔ ان حملوں کا مقصد مبینہ طور پر امریکی انتخابات کے عمل کو متاثر کرنا تھا۔
بائیڈن کیمپ نے اس بات کی سختی سے تردید کی ہے کہ انہوں نے کوئی غیر قانونی معلومات حاصل کیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی انتخابی مہم شفافیت کے اصولوں پر عمل کرتی ہے اور وہ کسی غیر قانونی سرگرمی کا حصہ نہیں ہیں۔
امریکی حکام نے اس سائبر حملے کو جمہوری عمل کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔ ایف بی آئی اور دیگر تحقیقاتی ادارے معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں تاکہ اس سازش کے پیچھے کارفرما عناصر کو بے نقاب کیا جا سکے۔
ایران کی حکومت نے ان الزامات کو سختی سے مسترد کیا ہے اور ان واقعات کو ایران کو بدنام کرنے کی سازش قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران امریکی اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرتا۔
یہ واقعہ ایک بار پھر عالمی سطح پر سائبر حملوں کے بڑھتے ہوئے خطرات کو نمایاں کرتا ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی تنظیموں نے ایسے حملوں سے بچنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی اپنانے پر زور دیا ہے۔
سائبر سیکیورٹی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے حملے نہ صرف جمہوری عمل بلکہ عالمی امن کے لیے بھی خطرہ ہیں، اور ان کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔