آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش، تیل کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا خدشہ
مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بڑھنے کے باعث آبنائے ہرمز کی بندش کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے، جس کے نتیجے میں عالمی منڈیوں میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ متوقع ہے۔ اقتصادی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کیا، تو اس کا سب سے زیادہ اثر ایشیائی منڈیوں پر پڑے گا۔ دنیا کا تقریباً 20 فیصد خام تیل اسی راستے سے گزرتا ہے۔ سعودی عرب، ایران، عراق، کویت، قطر، اور متحدہ عرب امارات کا تیل یہاں سے برآمد ہوتا ہے۔بین الاقوامی مارکیٹس میں پہلے ہی خام تیل کی قیمت میں فی بیرل 7 سے 10 ڈالر اضافے کی پیش گوئی کی جا رہی ہے۔ جاپان، چین، بھارت، اور پاکستان جیسے ممالک کو فیول درآمد میں رکاوٹ کا سامنا ہو سکتا ہے۔
پاکستان پر اس صورتِ حال کے ممکنہ اثرات سنگین ہو سکتے ہیں۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں واضح اضافہ متوقع ہے، جبکہ بجلی اور ٹرانسپورٹیشن کے اخراجات بڑھنے سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق، اس ممکنہ بحران سے نمٹنے کے لیے ہنگامی حکمتِ عملی پر غور شروع کر دیا گیا ہے۔ اگر آبنائے ہرمز بند ہوتی ہے، تو یہ عالمی سطح پر توانائی بحران کا باعث بن سکتی ہے، جس کا پہلا جھٹکا ایشیا کی ابھرتی ہوئی معیشتوں، بشمول پاکستان، کو لگے گا۔