سعودی عرب میں اقامہ کی تجدید مزید آسان — نئے قوانین کا نفاذ

سعودی عرب میں اقامہ کی تجدید مزید آسان — نئے قوانین کا نفاذ

سعودی حکومت نے اقامہ (رہائشی پرمٹ) کی تجدید کے نظام کو مزید مؤثر اور آسان بنانے کے لیے گھریلو ملازمین اور کمرشل ورکرز سے متعلق نئے قواعد و ضوابط جاری کر دیے ہیں۔ یہ فیصلے ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب مملکت میں ایکسپائر اقاموں کی شرح میں کمی اور ای گورننس کو فروغ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

سعودی عرب میں اقامہ کی تجدید کے نئے اصول متعارف کرا دیے گئے ہیں، جن کے تحت اب آن لائن تجدید لازمی قرار دی گئی ہے۔ تمام کفیلوں اور کمپنی مالکان کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اقامہ کی تجدید ابشر یا مقیم پلیٹ فارم کے ذریعے کریں۔ اس کے ساتھ ہی یہ اصول بھی طے کیا گیا ہے کہ اقامہ کی فیس، بیمہ اور ٹیکس کی مکمل ادائیگی کے بعد ہی اقامہ کی توسیع ممکن ہوگی۔ اگر کوئی کارکن 90 دن سے زائد عرصے تک سعودی عرب سے باہر رہا ہو تو اقامہ تجدید کے لیے کفیل کو خصوصی منظوری حاصل کرنا ہوگی۔ تاہم گھریلو ملازمین کے لیے نرمی رکھی گئی ہے — اگر گھر کا سربراہ سعودی عرب میں موجود ہو، تو بیوی، بچوں یا ڈرائیور کا اقامہ ملک سے باہر ہونے کے باوجود بھی تجدید کیا جا سکے گا۔ مزید یہ کہ تمام نئی بھرتیوں کے لیے شرط عائد کی گئی ہے کہ انہیں 30 دن کے اندر اقامہ جاری کروانا ہوگا، بصورت دیگر جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

ان تبدیلیوں کے متعدد فوائد ہیں جن میں ای گورننس کا فروغ، وقت اور قطاروں سے نجات، کاروباری اداروں کے لیے تیز تر پراسیسنگ، اور خاندانوں کے لیے سہولت و آسانی شامل ہیں۔ سعودی وزارت داخلہ کے مطابق، ہم اقامہ کے نظام کو محفوظ، جدید اور صارف دوست بنا رہے ہیں تاکہ تمام تارکین وطن باعزت اور قانونی طور پر قیام کر سکیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے