غزلیہ اشعار کا بیانیاتی نیراٹالوجیکل مطالعہ

farhat-ullah-e1732599360653.jpg

ہماری اردو ادب کی دنیا میں بیانیات کی مُباحِث شعری تنقید کی طرح معروف نہیں۔ لہٰذا غزلیہ اشعار کے بیانیاتی نقطۂ نظر سے جائز لینے سے قبل یہ جاننا مناسب رہے گا کہ بیانیات کیا ہے؟ ”افسانوی ادب کی تنقید کے لیے پہلے فکشن کی تنقید کی ترکیب مستعمل تھی؛ پھر کرِکشن کی اِصطلاح وضع ہوئی جسے کرِٹیسزم اور فکشن سے بنایا گیا تھا مگر اُس کا چلن نہ ہو سکا۔ فی زمانہ ’بیانیات‘ کی اِصطِلاح رائج ہے اور اِسی کو سکہ رائج الوقت سمجھنا چاہیے۔ بیانیات بیانیے کی  سائنس ہے۔ یہ بیانیے کی ساخت/ شعریات کو دریافت اور مُرَتَّب کرنے کی کوشش کرتی ہے۔“ ( 1 )

اِسی طرح پروفیسر شافع قدوائی لکھتے ہیں : ”بیانیات اصلاً نیریٹیو کے ساختیاتی مطالعہ کی اِصطلاح ہے۔ فن پارہ میں تواتر کے ساتھ رونما ہونے والے عناصر، موضوعات اور پیٹرن اور پھر اُن کے حوالے سے صورت پذیر ہونے والے آفاقی اُصولوں کو مرکز توجہ بنانا  علم بیانیات کا بنیادی نقطہ ہے۔“ ( 2 )

بیانیہ کیا ہے؟ ’‘ واقعہ ’کا بیان اِصطلاحاً‘ بیانیہ ’کہلاتا ہے۔“ ( 3 )

اِسی طرح ”بیانیہ بمعنی نیریٹیو کا اِطلاق اب بالعُموم فکشن کی نثری اصناف پر ہوتا ہے لیکن بیانیہ میں شعری بیانیہ بھی شامل ہے، مَثَلاً منظوم ڈرامہ، یونانی یا مغربی ادب میں ٹریجڈی کامیڈی کی روایت یا فارسی میں مثنوی کی مُہتمم بالشّان روایت جیسے خمسۂ نظامی یا شاہنامہ فردوسی یا مثنوی معنوی رومی۔ یہ سب بیانیہ ہی ہے، مزید برآں وہ تمام سنسکرت ادب جو ’کاویہ‘ کہلاتا ہے، اصلاً بیانیہ ہے۔“ ( 4 )

یہاں غور کرنے کی ضرورت ہے کہ اِس زُمرہ بندی میں غزل کے اشعار یا واحد شعر (فرد) میں موجود بیانیے (بمعنی کہانی) کا اِمکان کو زیرِ غور نہیں لایا گیا۔

اب کہانی بارے یہ جاننا ضروری ہے کہ کہانی کیسے بنتی ہے؟

کہانی کی عام تعریف یہ ہے : ”کہانی واقعات کا ایک ایسا مجموعہ ہے جس کا آغاز، وسط اور انجام ہو جب کہ بیانیہ کہانی کے واقعات کی نمائندگی سے عبارت ہے۔“ ( 5 )

مزید گہرائی میں جانا ہو تو ”واقعہ“ (ایونٹ) پہچان اور نوعیت دیکھنی ہوگی:

”بنیادی سوال یہی ہے کہ“ واقعہ ”کیا ہے؟ تو اس مشکل سوال کا آسان سا جواب یہ ہے کہ جِس عمل (حرکت) میں صورتِ حال تبدیل ہوتی ہو، اُسے ’واقعہ‘ کہتے ہیں اور صورتِ حال سے مُراد وہ زمانی تَسَلسُل ہے جس میں مظہر/ تنظیم/ اشیا ایک ہی شکل میں قائم رہتی ہیں۔ اِس تَسَلسُل یا ٹھہراؤ یا تنظیم میں کسی عمل کے سبب تبدیلی رونما ہوتی ہے تو اسے ’واقعہ‘ کہتے ہیں۔ جَیسے افسانہ نگار شب و روز کے کسی خاص حصّے کی کیفیت/ منظر بیان کرتا ہے یا کسی مکان/ کمرے / باغ کی تصویر کَشی کرتا ہے تو یہ صورتِ حال ہوگی اور جب کسی عمل کے نتیجے میں اِس صورتِ حال میں کوئی تبدیلی نمایاں ہو تو وہ ’واقعہ‘ ہو گا۔

مَثَلاً“ رات اندھیری تھی، مُوسلادھار بارش ہو رہی تھی، سڑک ویران تھی اور لوگ اپنے گھروں میں سو رہے تھے۔ ”یہ ایک صورتِ حال ہے کہ“ اچانک کہیں دور سے چیخ کے ساتھ رونے کی آواز اُبھری ”یہ واقعہ ہے۔ اِس میں صورتِ حال بیان کرنے والے لِسانی تنظیم کو وَصْف حال (ڈسکرپشن ) اور واقعہ کے بیان کو بیانیہ (نیریٹیو ) کہتے ہیں۔ یہ بالکل واضح ہے کہ صورتِ حال اِسم و صفت سے اور واقعہ فعل (ورب) سے عبارت ہے۔ یعنی تفصیل اسم و صفت کی ہوگی تو اُسے وَصْفِ حال (ڈسکرپشن ) اور جب بیان کسی فعل کا ہو گا تو اُسے واقعہ کا بیان/بیانیہ کہیں گے۔

فعل (ورب) کا بیان ہونے کے سبب واقعہ کی دوسری صفت یہ ہے کہ صورتِ حال کی تبدیلی میں ایک خَفی یا جَلی پراسیس ہو گا۔ اِس پراسیس میں عمل کا ایک مُحَرِّک اور عمل کے نتیجے میں تبدیلی کی ایک صورت ہوگی اور ان دونوں میں لازِماً سبب اور نتیجے کا تعلق ہو گا۔ یہ تعلق بیانیہ میں ظاہر بھی ہو سکتا ہے، جسے راوی بیان کرے جیسا کہ تقریباً تمام حقیقت پسند ناولوں میں ہوتا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ صرف نتیجہ روشن ہو اور قاری کسی طرح کے اِستِدلال یا عقلی ڈیوائس کے ذریعے سبب کو دریافت کرے اور اگر یہ دونوں صورت نہ ہُوں اور کسی بیان میں صرف نتیجہ ظاہر ہو اور اُس کا سبب خَفی یا جَلی سِرے سے موجود ہی نہ ہو تو اِسے ’واقعہ‘ کے بجائے ’ماجرا‘ کہتے ہیں۔

واقعہ کی تیسری صفت یہ ہے کہ اس تبدیلی میں وقت یا زمانہ لازماً شامِل/ شریک (انوالو) ہوتا ہے یعنی ایک صورتِ حال جب کسی سبب دوسری صورتِ حال میں تبدیل ہوتی ہے تو یہ تبدیلی ایک زمانے (ٹائم) میں ہی۔ خواہ وہ کتنا ہی مختصر کیوں نہ ہو۔ ممکن ہے۔ واقعہ کی چوتھی صفت یہ ہے کہ واقعہ کا تَصَوُّر کردار کے بغیر قائم نہیں ہوتا، یعنی واقعہ کسی نہ کسی کو پیش آتا یا کسی پر گزرتا ہے، یہ کوئی ذی حیات ہو سکتا ہے جس میں انسان سے لے کر چَرِند، پرِند اور نباتات تک شامل ہیں یا غَیر ذی حیات ہو سکتا ہے، جس میں تمام مَظاہِرِ فطرت شامل ہیں لیکن جس پر بھی واقعہ گزرے گا وہ اِصطلاحاً کردار ہی کہلائے گا۔“ ( 6 )

اب واقعے کی نوعیت دیکھتے ہیں : ”واقعہ خارج کی مادّی دنیا میں ہو سکتا ہے اور خیال و خواب یا جذبے کی غَیر مادّی دنیا میں بھی ممکن ہے۔ اِن دونوں صورتوں میں واقعہ کی تعریف ایک ہی رہتی ہے لیکن اُس کے بیان کی صِفات و اِمتِیازات بدلتے جاتے ہیں۔ مَثَلاً واقعہ اگر خارج میں ہو، جس کی صِفَت یہ ہے کہ حواس کے ذریعے سے اُس کا اِدراک ہو، اِس لیے نتیجتاً اُس کی تصدیق ہو سکے تو اُس کا بیان خبر، تاریخ، سوانح، سفرنامہ یا روزنامچہ وغیرہ کہلائے گا۔ اور اگر واقعہ نہ تو خارج میں ہو اور نہ ہی اُس کی تصدیق ممکن ہو اور نہ تصدیق ضروری ہو تو اُس کا بیان داستان، افسانہ یا فکشن کی دوسری شکل کہلائے گا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے