اجلا، کملا، اکتایا ہوا منیر نیازی اور پاکستان
بابا بلھے شاہ، استاد دامن، اور امرتا پریتم کے ساتھ ساتھ ہائی اسکول کے دور میں ایک اور ادبی جن، جن کی وجہ سے مجھے پنجابی ادب سے محبت ہو گئی، وہ منیر نیازی تھے۔
ماہ و سال گزرے۔ گزرے وقت کے ساتھ زندگی بھی گزاری جا رہی تھی، ”کہاں کی رباعی، کہاں کی غزل“ کے مصداق۔
ایک دن کشور آپی (کشور ناہید) کا پیار بھرا حکم آیا کہ آج کی شام منیر نیازی کے نام ہے، آ جانا۔ اس شام چند خوبصورت لوگ ہاشم بابر کے گیسٹ ہاؤس میں جمع ہوئے۔ یہ میری ان سے حقیقی زمان و مکان میں پہلی اور آخری ملاقات تھی۔ میں نے اس سے پہلے ان کو پی ٹی وی کے مشاعروں میں دیکھا تھا اور سخنور پروگرام میں پروین شاکر کو ان کا انٹرویو لیتے دیکھا تھا۔ ایک خوبصورت فریم ذہن میں بس گیا تھا۔اس دن میں نے دیکھا، سچ مچ کا مسکراتا ہوا شاعر، منیر نیازی۔ اسی لمحے، اسی وقت کی لہر میں، ایک بیمار اور بوڑھے منیر نیازی کو بھی دیکھا۔ یہ دو مختلف منیر نیازی ایک ساتھ موجود تھے۔ عجیب سی ملاقات تھی۔ وہ اپنی ہی شاعری بھول رہے تھے۔ کلام سنانا شروع کرتے اور رک جاتے۔ شکر ہے کہ ہم جیسے چند عام لوگوں کو ان کی کئی نظمیں اور غزلیں زبانی یاد تھیں۔ سلسلہ چلا، تھما، اور شام تمام ہوئی۔
مجھے پہلی بار کیٹس کی بھری جوانی کی موت پر اور پروین شاکر کی ”بھریا میلا چھوڑ جانے“ کی ادا پر اللہ سے کوئی گلہ نہ ہوا۔ بڑھاپا اور بیماری تکلیف دہ ہوتے ہیں، اور ان کو رومان انگیز بنانا کم از کم میرے جیسی ڈاکٹر کے بس کی بات نہیں۔
جب 2014 میں گارسیا مارکز نمونیا کی وجہ سے انتقال کر گئے، جب کہ وہ 10 سالوں سے ڈیمنشیا (یادداشت کی بیماری کا شکار تھے، تو ایک بار پھر مجھے منیر نیازی یاد آئے۔ میں نے محسوس کیا کہ کبھی کبھار ہم ادب اور فن کے عام قارئین تخلیق کار کی تخلیق سے زیادہ اُس کی خوبصورت تصویر یا تصور سے زیادہ محبت کرتے ہیں یا اس کے قریب ہوتے ہیں۔