جارجیا کے انتخابی کمیشن کے سربراہ، گیورگی کالنداریشویلی، پر ایک متنازع اجلاس کے دوران سیاہ رنگ پھینکا گیا، جس نے ملکی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب وہ پارلیمانی انتخابات کے نتائج کی تصدیق کر رہے تھے۔ اپوزیشن کے ایک رکن، ڈیوڈ کرتادزے، نے ان پر الزام لگایا کہ انتخابات میں دھاندلی کی گئی ہے اور حکومتی جماعت نے نتائج میں ردوبدل کیا ہے۔
26 اکتوبر کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں حکمران جماعت "جارجین ڈریم” نے 53.93 فیصد ووٹ حاصل کیے۔ تاہم، اپوزیشن نے ان نتائج کو مسترد کر دیا اور مظاہروں کا آغاز کیا۔ اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ انتخابات میں ووٹ خریدنے اور دیگر دھاندلیوں کا سہارا لیا گیا، جبکہ یورپی یونین کے مبصرین نے بھی انتخابی عمل میں بے ضابطگیوں اور تشدد کے واقعات کی نشاندہی کی ہے۔
یہ واقعہ جارجیا کی یورپی یونین میں شمولیت کی کوششوں کے دوران پیش آیا، جہاں حالیہ "غیر ملکی اثر و رسوخ قانون” کی منظوری کے بعد جارجیا کی رکنیت کی درخواست معطل کر دی گئی ہے۔ اس قانون کو اپوزیشن اور ناقدین نے آزادی اظہار اور جمہوری اصولوں کے خلاف قرار دیا ہے۔ حکمران جماعت پر الزام ہے کہ وہ ماسکو کے قریب ہو رہی ہے اور آمرانہ طرز عمل اپنا رہی ہے۔
صدر سالومے زورابیشویلی نے انتخابی نتائج کو مسترد کرتے ہوئے امریکہ اور یورپی یونین سے مداخلت کی اپیل کی ہے۔ دوسری طرف، کریملن نے کسی بھی مداخلت سے انکار کرتے ہوئے جارجیا کے اندرونی معاملات میں عدم دلچسپی ظاہر کی ہے۔
اجلاس کے دوران پیش آنے والے واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا اور مختلف نیوز چینلز پر وائرل ہو گئی ہے، جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ گیورگی کالنداریشویلی پر اچانک سیاہ رنگ پھینک دیا گیا۔ یہ واقعہ نہ صرف جارجیا بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ یہ واقعہ جمہوری عمل کی شفافیت اور انتخابی نظام کے حوالے سے جارجیا میں موجود گہری تقسیم کو نمایاں کرتا ہے، جس نے خطے کی سیاسی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔