ایرانی میزائل اسرائیل میں اہداف کو باآسانی نشانہ کیسے بنا رہے ہیں؟ اصل وجہ سامنے آگئی
ایران نے جدید Kheibar Shekan میزائل کے ذریعے حالیہ حملوں میں متعدد اہم ترین اہداف پر بے مثال درست نشانہ بازی کی، جو اسرائیل کے دفاعی نظام کو بھی حیران کر گیا۔
اس کی اصل وجوہات اب سامنے آ گئی ہیں۔ جدید خفیہ ڈیٹا اور انٹیلی جنس نے اس پورے معاملے میں اہم کردار ادا کیا۔ ایران کے خفیہ اداروں نے حساس اسرائیلی دستاویزات حاصل کیں، جن میں نیشنل دفاع اور فوجی تنصیبات کے نقشے شامل تھے۔ انہی معلومات کی بنیاد پر IRGC کے چیف حسن سلامی نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے میزائل کی پریسیژن میں خاطر خواہ اضافہ کیا ہے۔ جدید جیومیٹرک گائیڈنس سسٹم سے لیس Kheibar Shekan میزائل ہائپر سونک رفتار، اسٹیلٹھ ڈیزائن اور جدید electro-optical seeker کے حامل ہیں، جو انہیں ریڈیو جامنگ سے محفوظ رکھتے ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی خاص طور پر نشانے کے قریب درست سمت بدلنے اور ہدف پر قابو پانے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔
ایران نے بھرپور میزائل دَھاوَ (Saturation) حکمتِ عملی اپنائی، جس کے تحت IRGC نے بڑی تعداد میں میزائل ایک ساتھ لانچ کرکے اسرائیلی دفاعی نظام کو اوورلوڈ کر دیا۔ اگرچہ انفرادی نشانہ بازی میں مکمل کامیابی حاصل نہیں ہوئی، مگر مجموعی طور پر برقرار رکھنے کی قوت بہت زیادہ رہی۔ دوسری جانب، اسرائیل کے radar systems، خاص طور پر AN/TPY-2 X-Band، کم رفتار یا سبسونک ہائپر سونک میزائلوں کے خلاف کمزور ثابت ہوئے۔ Iron Dome، David’s Sling اور Arrow جیسے نظام اگرچہ مؤثر ہیں، مگر ایرانی ٹیکنالوجی میں بہتری کے بعد بعض میزائل ان دفاعی پرتوں کو عبور کرنے میں کامیاب ہوئے۔
نتیجتاً، ایک نئی دفاعی حقیقت سامنے آئی ہے۔ ایران نے انٹیلی جنس، جدید گائیڈنس اور مقدار پر مبنی لانچ حکمتِ عملی کے امتزاج سے اسرائیلی دفاع میں نمایاں خلل پیدا کیا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اب خطے میں نئی زمینی حقیقتیں تشکیل پا رہی ہیں، اور اسرائیل سمیت دیگر ممالک کو اپنے دفاعی میکانزم کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔