ایران امریکی حملے کا جواب کیسے دے سکتا ہے؟

ایران امریکی حملے کا جواب کیسے دے سکتا ہے؟

تہران: امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کی جوہری تنصیبات پر کیے گئے حالیہ حملوں کے بعد یہ سوال شدت سے اٹھ رہا ہے کہ ایران اب کیا جواب دے گا؟ ایرانی عسکری اور سیاسی حلقوں نے واضح اشارہ دیا ہے کہ جوابی کارروائی ناگزیر ہے، تاہم اس کا انداز اور دائرہ کار کئی مختلف امکانات پر مشتمل ہو سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق، ایران غیر روایتی جنگ (Asymmetrical Warfare) کے ذریعے ردعمل دے سکتا ہے، یعنی براہِ راست حملے کے بجائے اپنے اتحادی گروپس — جیسے حزب اللہ (لبنان)، حوثی (یمن) اور عراقی ملیشیا — کے ذریعے مشرقِ وسطیٰ میں کارروائیاں کروا سکتا ہے۔ اسی طرح ایران اپنی سائبر وارفیئر صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے امریکہ یا اسرائیل کے حساس اداروں پر سائبر حملے بھی کر سکتا ہے، جیسا کہ وہ ماضی میں متعدد بار کر چکا ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ایران خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں یا تیل کے ذخائر کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے تاکہ عالمی معیشت پر دباؤ بڑھایا جا سکے۔

ایک اور امکان یہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کی رفتار تیز کر دے تاکہ دنیا کو یہ پیغام دیا جا سکے کہ حملوں کا نتیجہ الٹا ایران کے حق میں نکلا ہے۔ تاہم عسکری ردعمل کے ساتھ ساتھ ایران سفارتی محاذ پر بھی سرگرم ہو سکتا ہے، اقوامِ متحدہ اور عالمی عدالتِ انصاف میں قانونی چارہ جوئی کے ذریعے عالمی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کرے، اور امریکہ و اسرائیل کو اخلاقی دباؤ میں لائے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کا ردعمل فوری نہیں بلکہ سوچ سمجھ کر اور حکمتِ عملی کے ساتھ سامنے آئے گا، کیونکہ کسی براہِ راست جنگ کی صورت میں پورا خطہ عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے۔ فی الحال، تمام نگاہیں ایران کی اگلی چال پر مرکوز ہیں، جو مشرقِ وسطیٰ کے مستقبل کا رخ متعین کر سکتی ہے۔