احمد آباد میں مسافر طیارہ حادثہ: 270 افراد جاں بحق، اصل وجہ سامنے آگئی
بھارت کے شہر احمد آباد میں گزشتہ دنوں ایک مسافر طیارہ ہولناک حادثے کا شکار ہو گیا، جس میں سوار 270 افراد جاں بحق ہو گئے۔ یہ سانحہ بھارت کی ہوابازی کی تاریخ کا بدترین حادثہ قرار دیا جا رہا ہے۔ طیارے میں سوار افراد میں زیادہ تر بھارتی شہری تھے، جن میں خواتین، بچے، بزرگ اور غیر ملکی سیاح بھی شامل تھے۔ حادثے کے بعد متاثرہ خاندانوں کا رو رو کر بُرا حال ہے۔ اسپتالوں اور ائیرپورٹس پر رقت آمیز مناظر دیکھنے کو ملے۔
حکام نے تحقیقات کے بعد بتایا ہے کہ طیارے کے انجن میں پرواز کے فوراً بعد شدید خرابی پیدا ہوئی۔ مزید بتایا گیا کہ پائلٹ نے واپس لینڈنگ کی کوشش کی مگر طیارہ ٹیک آف کے صرف 7 منٹ بعد کنٹرول سے باہر ہو گیا۔ جہاز زمین سے ٹکرا کر مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔ بلیک باکس کی ریکارڈنگ میں آخری لمحات میں پائلٹ کی چیخ سنائی دی: مے ڈے! مے ڈے! انجن فیل ہو گیا ہے۔
احمد آباد کے طیارہ حادثے کے بعد کئی سوالات جنم لے چکے ہیں — کیا طیارہ تکنیکی طور پر محفوظ تھا؟ کیا فلائٹ سے پہلے مکمل معائنہ کیا گیا تھا؟ اور سب سے اہم، کیا ذمہ داروں کو سزا ملے گی یا معاملہ ہمیشہ کی طرح دب جائے گا؟ بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے اس افسوسناک سانحے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہمارے ملک کے لیے ایک دل دہلا دینے والا لمحہ ہے، متاثرہ خاندانوں کے ساتھ پوری قوم کھڑی ہے۔ حکومت نے فوری تحقیقات کا حکم دیا ہے اور متاثرین کے لواحقین کے لیے مالی امداد کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔احمد آباد کے اس المناک حادثے نے ایک بار پھر ہوائی سفر کی سیکیورٹی پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ 270 قیمتی جانیں ضائع ہو گئیں، مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم مستقبل میں ایسے سانحات سے بچنے کے لیے واقعی کچھ سیکھ پائیں گے؟