کوپن ہیگن: ڈنمارک کی ایک نئی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ دمہ خواتین میں حمل ضائع ہونے اور تولیدی مسائل سے جڑا ہوا ہے۔
ڈاکٹر این وگن ہینسن، جو اس تحقیق کی سربراہ اور کوپن ہیگن یونیورسٹی اسپتال کے شعبہ تنفسی طب کی ماہر ہیں، نے بتایا کہ اس تحقیق میں دمہ والی خواتین میں جنین کے ضیاع کی شرح زیادہ پائی گئی، اور ان خواتین کو تولیدی علاج کی ضرورت بھی زیادہ تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ جتنا زیادہ شدید دمہ ہو، اتنی ہی زیادہ خواتین کو تولیدی مدد کی ضرورت پڑنے کا امکان ہوتا ہے۔
ڈاکٹر وگن ہینسن کی ٹیم نے اپنی تحقیق کے نتائج یورپی ایسوسی ایشن آف ریسرچ سوسائٹی (ERS) کے سالانہ اجلاس میں ویانا میں پیش کیے۔
اس تحقیق میں 1976 سے 1999 کے درمیان پیدا ہونے والی تقریباً 770,000 شہری خواتین کے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا گیا، جن کے ابتدائی تولیدی سالوں کا موازنہ 1994 سے 2017 تک کیا گیا۔