پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف ملک بھر میں جاری آپریشن کے دوران اسلام آباد کے مختلف ہسپتالوں میں ایک گہرا اور اضطراب پیدا ہوگیا۔ بی بی سی کی ٹیم نے ان ہسپتالوں کا دورہ کیا اور مختلف لوگوں سے ملاقات کی تاکہ وہ اس صورتحال کا جائزہ لے سکیں۔
ہسپتالوں میں زیادہ تر زخمی افراد وہ تھے جو 9 مئی کو ہونے والے احتجاج اور پرتشدد واقعات میں شریک تھے۔ زخمیوں کی حالت دیکھ کر یہ واضح تھا کہ پرتشدد کارروائیاں کس حد تک بڑھ چکی تھیں اور ان میں سے کچھ افراد کی حالت نازک تھی۔ بی بی سی کی ٹیم نے مختلف ہسپتالوں کے ایمرجنسی وارڈز کا جائزہ لیا جہاں زخمی افراد کا علاج جاری تھا۔
ہسپتالوں میں موجود ڈاکٹروں اور نرسوں نے بتایا کہ کئی زخمیوں کا علاج پیچیدہ تھا اور بعض کو فوری طور پر سرجری کی ضرورت تھی۔ ان افراد میں کئی پی ٹی آئی کے کارکن شامل تھے جن کی عمر مختلف تھی اور وہ احتجاجی مظاہروں کے دوران پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں زخمی ہوئے تھے۔
بی بی سی کی ٹیم کے مطابق، ہسپتالوں میں زیادہ تر زخمیوں کا تعلق پنجاب اور خیبرپختونخوا سے تھا، جو اسلام آباد میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں شریک ہوئے تھے۔ ان میں سے کچھ زخمیوں نے تشویش کا اظہار کیا کہ ان پر پولیس کا زیادتی کا سامنا ہوا تھا، جس کی وجہ سے ان کی حالت بگڑ گئی۔
ہسپتالوں میں یہ بھی دیکھنے کو ملا کہ بعض زخمیوں کے ساتھ ان کے خاندان کے افراد بھی موجود تھے، جو اپنے عزیزوں کے علاج کے لیے دعا گو تھے۔ ایک طرف پرتشدد واقعات نے لوگوں کو زخمی کیا، تو دوسری طرف خاندانوں کی تشویش اور پریشانی بھی بڑھ گئی تھی۔
اسلام آباد کے ہسپتالوں میں ہونے والی صورتحال نے واضح طور پر ظاہر کیا کہ احتجاجی مظاہروں کے دوران ہونے والی تشویش ناک حالات نے نہ صرف پولیس اور حکومت کے لیے چیلنجز پیدا کیے بلکہ عام عوام کی زندگی کو بھی متاثر کیا۔