حسن منظر کے ناول ”العاصفہ“ پر تبصرہ
- ایسٹ اینڈ ویسٹ نیوز
- پیر ، 12 جنوری 2025
- 0 تبصرے
- 17 مناظر
حسن منظر کا شمار عہد حاضر کے منفرد تخلیق کاروں میں ہوتا ہے۔ حسن منظر ایسے ادیب ہیں جو اپنی زندگی میں مسلسل لکھتے رہے۔ اس دوران انھوں نے تسلسل سے اتنا عمدہ لکھا کہ عہد حاضر میں اپنی تحریر و تخلیق سے ایک نمایاں، بلند اور معتبر مقام حاصل کیا۔ ماہر نفسیات ہونے کے سبب انہوں نے مختلف ممالک کا سفر کیا ہے اور مختلف شہروں اور ملکوں میں گھوم کر کہانیاں اکٹھی کیں۔ اس لیے ہمیں ان کے ہاں کہانیوں کے موضوعات کا ایک بہت بڑا ذخیرہ ملتا ہے۔ ان کے ہاں افسانوں اور ناولوں میں کثیر اور متنوع موضوعات ملتے ہیں۔
حسن منظر کا پہلا ناول ”العاصفہ“ 2006 میں منظر عام پر آیا۔ یہ ناول ایک منفرد تہذیب و ثقافت کا حامل ہے۔ جس میں حسن منظر نے عرب ممالک کی تہذیب و معاشرت کی عکاسی کی ہے۔ العاصفہ عربی میں طوفانی ہوا کو کہتے ہیں۔ ناول میں پیش آنے والے واقعات ایک عرب ملک میں پیش آتے ہیں لیکن حسن منظر نے انہیں ”ک“ ، ”ن“ کے مخصوص ناموں سے انھیں شناخت کیا ہے۔
اس ناول میں بے شمار ایسے کردار ملتے ہیں جن سے ملک کے نام کی پہچان اور شناخت کو قاری خود ہی بوجھ لیتا ہے۔ اس ناول کا مرکزی کردار ”زید“ ہے۔ ناول کی کہانی اسی مرکزی کردار کے گرد گھومتی ہے۔ اس مرکزی کردار کے خیالات اور سیاسی معاملات و مسائل جذباتی سطح پر وقت کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں۔ اس کا باپ شرابی ہے اور ان کے گھر میں ہر وقت لڑائی جھگڑے کا ماحول رہتا ہے۔ اس کے گھر والے یعنی زید کے ماں باپ بھی اسے بہت تنگ کرتے ہیں۔ ان سب سے تنگ آ کر وہ گھر چھوڑ کر چلا جاتا ہے۔ پھر کچھ ہی عرصے کے بعد اس کے گھر والوں کے خط آنے لگتے ہیں۔ دراصل اس کا باپ بہت ہوشیار اور چالاک بدو ہے۔
زید کی کمزوری ناول کی ہیروئن ”منیرہ“ ہے جس سے وہ محبت کرتا ہے۔ اس کا باپ یہ بات جان جاتا ہے اور منیرہ کے ذریعے اسے بلیک میل کرتا ہے اور پیسے منگواتا ہے۔ یہاں اس حوالے سے اس ناول سے ایک اقتباس ملاحظہ کیجیے :
”باپ نے زید کو خط بھیجا۔ اس خط میں لکھا تھا: منیرہ مشکل میں پڑ گئی ہے اور اس کی جائیداد بچانے کے لیے کسی قسم کا مقدمہ لڑنا پڑے گا جس کے لیے ظاہر ہے رقم درکار تھی۔ اسے سر دست دو سو دینار کا بدل چاہیے۔ اور پھر میں ( یعنی زید) جب چاہوں آ کر منیرہ سے نکاح پڑھوا سکتا ہوں۔ وہ راضی تھی۔ ماں نے بہت سارے زیور اس کے لیے بنوا لیے تھے۔ تھوڑے بہت کپڑے بھی سل گئے تھے۔“
ناول میں دکھائی دیتا ہے کہ زید کا ہر رشتہ ہی مطلبی ہے اور اس سے برا سلوک کرتا ہے۔ جب وہ دولت کما رہا ہوتا ہے تو سب اس کے ساتھ ہوتے ہیں مگر مشکل حالات پڑنے پر آہستہ آہستہ سب ساتھ چھوڑ دیتے ہیں۔ پھر جب وہ واپس آتا ہے تو اس کا باپ تب تک سارا پیسہ جو اس نے اتنی محنت سے ”ک“ میں کمایا تھا سارا شراب نوشی میں اڑا چکا ہوتا ہے۔ جب وہ اپنے باپ سے اس بارے میں پوچھتا ہے تو وہ باتیں بنانے میں ماہر ہے اور اس کو یوں گھماتا ہے :
”وہ ساری رات بولتا رہا کبھی عربوں کی تہذیب کے بارے میں، کبھی سیاست کے اور کبھی قوموں کی ترقی کے۔ اس کے ان خیالات کا اس کی عملی زندگی سے کوئی واسطہ نہیں تھا۔ جیسے تمام سیاستدانوں کی عملی زندگی ان کی پوشیدہ زندگی کو چھپائے رکھتی ہے۔ ابن سعید کی کوئی عملی زندگی تھی ہی نہیں، بس وہ تھا اور اس کی چھپی ہوئی زندگی۔ چھپی ہوئی زندگی کچھ ماں سے چھپی تھی، کچھ بچوں سے اور کچھ دنیا سے۔ دنیا کے بڑے سیاستدانوں کی زندگی میں وہ سب کمزوریاں ہوتی ہیں جو میرے باپ میں تھیں۔“
ناول میں حسن منظر نے زید اور منیرہ کی کہانی کے ساتھ ساتھ عرب ممالک کے نچلے طبقات کی محرومیاں، عرب معاشرے کے تضادات، آئل کمپنی کی اجارہ داری، عرب تہذیب و ثقافت اور وہاں کے کمزور، سیاسی، سماجی اور قانونی ڈھانچے کو موضوع بنایا ہے۔
یہ ناول فنی لحاظ سے بھی ایک عمدہ حیثیت رکھتا ہے۔ ناول کا پلاٹ، اسلوب، زبان و بیان اور کردار نگاری سبھی حوالوں سے یہ بہت شاندار اور دلچسپ ناول ہے۔ حسن منظر نے ناول میں عربی الفاظ کا استعمال بھی کیا ہے جو وہاں کی رائج زبان کی عکاسی کرتے ہیں۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو یہ ناول حسن منظر کے مخصوص اسلوب اور مختلف علاقوں کی تہذیبی و فکری بصیرت کا بہت عمدہ عکاس ہے۔ بلاشبہ ادبیات اردو میں یہ ایک قیمتی و گراں قدر اضافہ ہے۔