صرف 72 گھنٹوں میں ایلون مسک اور ڈونلڈ ٹرمپ کی لڑائی کیسے شدت اختیار کر گئی؟
کیلیفورنیا/فلوریڈ میں ایک عام سی طنزیہ پوسٹ سے شروع ہونے والی بحث صرف 72 گھنٹوں میں ٹیکنالوجی ٹائیکون ایلون مسک اور سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ایک مکمل ڈیجیٹل جنگ میں تبدیل ہو گئی۔ سب کچھ اس وقت شروع ہوا جب ایلون مسک نے ایک ٹویٹ (X پوسٹ) میں لکھا کہ دنیا کو AI کی نہیں، عقل کی کمی ہے… خاص طور پر ان لوگوں میں جو دیواریں بناتے ہیں یہ واضح اشارہ ٹرمپ کی بارڈر وال پالیسی کی طرف تھا۔
دوسرے دن ٹرمپ کا دھماکہ خیز جواب سامنے آیا ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا ایپ Truth Social پر ردعمل دیتے ہوئے کہا مسک اب ایک امیر روبوٹ ہے جسے انسانوں کی سیاست سمجھ نہیں آتی ساتھ ہی انہوں نے Tesla کی گاڑیوں کو overpriced electric trash بھی کہا۔
تیسرے دن ایلون مسک نے SpaceX اور Tesla کے اعداد و شمار کے ساتھ ٹرمپ کے کاروباروں پر طنز کرتے ہوئے کہا میں مریخ پر جا رہا ہوں، تم ابھی تک دیوار کے پیچھے ہی ہو۔ اسی دن TrumpVsMusk ٹرینڈ کر گیا اور لاکھوں memes، تھریڈز اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر چھا گئیں۔
سوشل میڈیا پر صارفین اس جنگ سے خوب محظوظ ہو رہے ہیں۔ کچھ Elon کے ساتھ ہیں، کچھ ٹرمپ کے۔ Elon جیت رہا ہے، ٹیک سے سیاست تک۔ ٹرمپ ہمیشہ ٹرمپ ہے ہر جنگ کو شو بنا دیتا ہے کیا یہ صرف ڈیجیٹل جنگ ہے؟ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ جھگڑا صرف ایگو نہیں، بلکہ مستقبل کی طاقت کا جھگڑا ہے۔ ایک طرف مصنوعی ذہانت اور اسپیس ٹیکنالوجی، دوسری طرف سیاست اور مقبولیت۔ یہ صرف ذاتی لڑائی نہیں، بلکہ ٹیک اور پاپولزم کا ٹکراؤ ہے۔