کالم

امریکہ پاکستان کے بیلسٹک پروگرام کی حمایت نہیں کرے گا

امریکہ نے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ پاکستان کے بیلسٹک میزائل پروگرام کی حمایت نہیں کرے گا۔ یہ بیان امریکی حکام کی جانب سے ایک حالیہ پریس کانفرنس کے دوران سامنے آیا، جس میں خطے میں اسلحے کی دوڑ اور سلامتی کے مسائل پر گفتگو کی گئی۔

امریکی حکام نے کہا کہ پاکستان اور دیگر ممالک کو اپنے دفاعی منصوبوں کو بین الاقوامی قوانین اور جوہری عدم پھیلاؤ کے اصولوں کے دائرے میں رکھنا چاہیے۔ امریکہ کا مؤقف ہے کہ بیلسٹک میزائل پروگرام خطے میں استحکام کو متاثر کر سکتا ہے اور جنوبی ایشیا میں پہلے سے موجود تنازعات کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔

پاکستان کی جانب سے بیلسٹک میزائل پروگرام کو اپنی قومی سلامتی کا ایک لازمی جزو قرار دیا جاتا ہے۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ پروگرام کسی ملک کے خلاف نہیں بلکہ ملکی دفاع کو مضبوط کرنے کے لیے ہے، خاص طور پر بھارت کے بڑھتے ہوئے اسلحے کے ذخیرے کے پیش نظر۔

امریکہ کا یہ مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں اسلحے کی دوڑ اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ کے اس رویے سے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات مزید متاثر ہو سکتے ہیں، خاص طور پر دفاعی تعاون اور اسٹریٹجک معاملات کے حوالے سے۔

دوسری جانب، پاکستان نے اپنے بیلسٹک پروگرام کے حوالے سے عالمی دباؤ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اس کا خودمختار حق ہے۔ پاکستانی حکام نے زور دیا ہے کہ ان کا پروگرام دفاعی نوعیت کا ہے اور جوہری عدم پھیلاؤ کے تمام اصولوں کی پاسداری کرتا ہے۔

یہ معاملہ بین الاقوامی سطح پر توجہ کا مرکز بن گیا ہے، جہاں مختلف ممالک خطے میں امن اور استحکام کو یقینی بنانے کے لیے کوشش کر رہے ہیں۔ امریکہ کے اس مؤقف کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ یہ مسئلہ مزید سفارتی سطح پر زیر بحث آئے گا

Back to list

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے