🇳🇴 ناروے میں مہنگی خوراک پر بحث چھڑ گئی، مگر درآمدی ٹیرف پر خاموشی کیوں؟

🇳🇴 ناروے میں مہنگی خوراک پر بحث چھڑ گئی، مگر درآمدی ٹیرف پر خاموشی کیوں؟

 ناروے میں حالیہ دنوں میں اشیائے خوردونوش کی بلند قیمتوں نے عوامی حلقوں اور میڈیا میں شدید بحث چھیڑ دی ہے۔ لوگ حیران ہیں کہ ملک میں خوراک اتنی مہنگی کیوں ہے؟ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ درآمدی اشیاء پر لگے بھاری ٹیرف (custom duties) پر کوئی خاص بحث نہیں ہو رہی۔

مہنگائی کی ایک بڑی وجہ مقامی خوراک کی بلند لاگت ہے۔ حکومت مقامی کسانوں کو تحفظ دینے کے لیے غیر ملکی خوراک پر بھاری ٹیکس عائد کرتی ہے، جس سے درآمد شدہ اشیاء مہنگی ہو جاتی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی، بیرونی مقابلے کو محدود کرنے کے لیے سبسڈی اور ٹیرف کا نظام بھی کئی برسوں سے جاری ہے، جو مجموعی طور پر قیمتوں میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ ناروے کے شہری اشیائے خوردونوش کی روز بروز بڑھتی قیمتوں پر ناراض نظر آتے ہیں۔ ایک نارویجین شہری کا کہنا تھا کہ یہ حیرت کی بات ہے کہ ہم ایک ترقی یافتہ ملک میں رہتے ہیں مگر روٹی، دودھ اور پھل اتنے مہنگے کیوں ہیں؟

ماہرین کے مطابق ناروے میں مقامی زراعت کی حمایت کو قومی پالیسی کا درجہ حاصل ہے۔۔ درآمدی اشیاء پر بات کرنا سیاسی طور پر حساس ہے کیونکہ یہ مقامی کسانوں کے مفادات سے جڑا مسئلہ ہے۔ اس لیے زیادہ تر بحث قیمتوں پر ہوتی ہے، نہ کہ پالیسی پر۔ ناروے میں خوراک کی قیمتوں پر جاری بحث نے مہنگائی کے مسئلے کو اجاگر تو کیا ہے، لیکن اصل وجہ  یعنی درآمدات پر بھاری ٹیرف  اب بھی سیاسی خاموشی کا شکار ہے۔ شاید وقت آ گیا ہے کہ قیمتوں کی بحث کے ساتھ ساتھ پالیسی پر بھی نظرثانی کی جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے