تازہ-ترین

خصم؛ سرہانے کا سانپ

میں بات بات کی آہٹ لیتے اونچے مکانوں سے گھری تنگ گلیوں میں اسے ڈھونڈ رہی تھی۔ وہ گلیاں جہاں روشن دن میں بھی سورج کی کرنیں پہنچ نہیں پاتیں۔ جہاں بھوک اور مفلوک الحالی نے اپنا مسکن بنا رکھا تھا۔ ویرانی ہی ویرانی۔ ایک تھڑے کے نیچے لیٹے، بوری کا لبادہ اوڑھے شخص سے اس کے بارے میں پوچھا تو انوکھا ہی جواب پایا،

”کیوں ملنا چاہتی ہو؟“
”سنا ہے وہ سکھ بانٹتی ہے۔“
”دکھ کی اس آماجگاہ میں سکھ کہاں؟“
”دکھ ہی تو ادھر چھوڑنے آئی ہوں۔“
”پھر تم صحیح جگہ آئی ہو۔

برے لوگوں کو پانے کے لیے اوگھٹ راستے ہی اپنانے پڑتے ہیں، بائیں ہاتھ والی گندی گلی میں مڑ جاؤ۔ کائی دار پتھر کی سیڑھیاں نظر آئیں گی۔ تیسری منزل پر اس کا ٹھکانہ ہے۔ ”

پر پیچ تنگ سی سیڑھیوں کا اختتام گہرے سبز رنگ کے دروازے پر ہوا۔ کئی جگہ سے رنگ اکھڑ چکا تھا۔ دروازہ تنگ لیکن میرے خاوند کی رکھیل جیسا اونچا لمبا۔

کئی سال پہلے اس دروازے کو کسی نے اس گشتی یا کسی اور طوائف زادی کی آنکھوں کی رنگت دیکھ کر زمردیں رنگ میں رنگا ہو گا لیکن اب گندے عاشقوں کے پان سے لتھڑے ہاتھ لگنے سے یہ جگہ جگہ سے کالا ہو گیا تھا۔

رنگ کے پرت اتر اتر کر فرش کے ساتھ جھڑے ہوئے تھے۔ دروازے پر دستک دوں یا واپس چلی جاؤں؟ یہ سوچتے ہوئے کاپر کے پھپھوندی لگے ہینڈل پر ہاتھ رکھا تو خوفناک سی چرچراہٹ کے ساتھ دروازہ کھل گیا۔

https://googleads.g.doubleclick.net/pagead/ads?gdpr=0&client=ca-pub-1895306881625516&output=html&h=193&slotname=3963852988&adk=603206587&adf=682870259&pi=t.ma~as.3963852988&w=770&abgtt=6&fwrn=4&lmt=1732965751&rafmt=11&format=770×193&url=https%3A%2F%2Fwww.humsub.com.pk%2F571574%2Fsyed-muhammad-zahid-39%2F&wgl=1&uach=WyJXaW5kb3dzIiwiMTAuMC4wIiwieDg2IiwiIiwiMTMxLjAuNjc3OC44NiIsbnVsbCwwLG51bGwsIjY0IixbWyJHb29nbGUgQ2hyb21lIiwiMTMxLjAuNjc3OC44NiJdLFsiQ2hyb21pdW0iLCIxMzEuMC42Nzc4Ljg2Il0sWyJOb3RfQSBCcmFuZCIsIjI0LjAuMC4wIl1dLDBd&dt=1733053062033&bpp=6&bdt=737&idt=-M&shv=r20241120&mjsv=m202411140101&ptt=9&saldr=aa&abxe=1&cookie=ID%3Dc775ef1266490c70%3AT%3D1732516802%3ART%3D1732966526%3AS%3DALNI_MaXzsVaDpKYiIl-iujYAcu7DDVYCg&gpic=UID%3D00000f8f6f30951d%3AT%3D1732516802%3ART%3D1732966526%3AS%3DALNI_Mbz2aWgJLUQNeGKxUFJ4nauW_uBHA&eo_id_str=ID%3D65b482d3b2549794%3AT%3D1732516802%3ART%3D1732966526%3AS%3DAA-AfjbVodCsSU9kf0qxZ9gdpte5&prev_fmts=0x0%2C770x280&nras=1&correlator=7974204473476&frm=20&pv=1&rplot=4&u_tz=300&u_his=6&u_h=1024&u_w=1280&u_ah=984&u_aw=1280&u_cd=24&u_sd=1&dmc=8&adx=417&ady=1878&biw=1263&bih=863&scr_x=0&scr_y=0&eid=31088669%2C95332923%2C95344788%2C31088457%2C95345967%2C95347432%2C95347755&oid=2&pvsid=49760615887296&tmod=737932037&uas=0&nvt=1&ref=https%3A%2F%2Fwww.humsub.com.pk%2Fadab%2F&fc=1920&brdim=0%2C0%2C0%2C0%2C1280%2C0%2C1280%2C984%2C1280%2C863&vis=1&rsz=%7C%7CeEbr%7C&abl=CS&pfx=0&fu=128&bc=31&bz=1&td=1&tdf=2&psd=W251bGwsW251bGwsbnVsbCxudWxsLCJkZXByZWNhdGVkX2thbm9uIl0sbnVsbCwzXQ..&nt=1&ifi=3&uci=a!3&btvi=1&fsb=1&dtd=752

”چلے آؤ!“

جو تصویر مجھے دکھائی گئی تھی اس میں وہ بیہودہ اور خوفناک دکھائی دیتی تھی۔ الف لیلیٰ کی کہانیوں کی جادوگرنی کی طرح، جس کے چہرے پر وقت اور گناہوں کی سیاہی چھائی ہوئی ہو۔ سامنے موجود بڑھیا ویسی نہیں تھی۔ اس کے کپڑے خستہ اور ردی تھے۔ کچھ پیوند تھے کہ جن سے تن ڈھانپنے کا کام لیا گیا تھا۔ غربت اور بڑھاپے میں جو کسی اکیلی عورت کی حالت ہوتی ہے وہ اس سے زیادہ قبول صورت تھی۔ ڈھلکے ہوئے پپوٹوں کے نیچے دھنسی ہوئی لال انگارہ آنکھیں کمرے کی تاریکی میں اندھیرے کو چیر کر دل میں پیوست ہوتی ہوئی محسوس ہوئیں۔

”آ جاؤ! کیوں ڈر رہی ہو؟ لوگ کہتے ہوں گے لیکن تم فکر نہ کرو، میں کاٹ نہیں کھاؤں گی۔ گرچہ میں باقی زہریلی چیزوں کی گارنٹی نہیں دے سکتی۔“

ہوا کی طرح سریلی سرسراتی آواز کمرے کی خاموشی میں پراسرار طلسم کی طرح آہستہ آہستہ ابھرتے ہوئے مجھے اپنی طرف کھینچ رہی تھی۔ الفاظ کانوں میں جادو بکھیر رہے تھے۔ میں خوفزدہ ہو گئی کہ یہ آواز مجھے کھینچ کر کسی جادوئی کھنڈر میں نہ لے جائے۔ لیکن مجھے بتایا گیا تھا کہ وہ صرف مردوں کو گھیرتی ہے۔

”بیٹھو، پیاری۔ چائے لینا پسند کرو گی؟“ وہ سامنے پڑی ٹی کوزی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولی۔
میں خاموشی سے اسے دیکھتی رہی۔

”ٹھیک ہے ابھی نہیں تو کچھ دیر بعد لے لیں گے۔ میں خود رات دیر گئے تک پیتی رہتی ہوں۔ پرانی عادت ہے۔ اب اور تو کچھ ملتا نہیں، اس سے ہی دل جلا لیتی ہوں۔“

میری آنکھیں اندھیرے کی عادی ہو گئی تھیں۔ کمرہ انتہائی گندا تھا۔ دیواروں پر اخبارات کے تراشے فریموں میں سجا کر لگائے گئے تھے۔ جوانی کی کامیابیوں کی کہانیاں جو اس وقت کے اخبارات میں بیان کی گئی تھیں۔ بہت سے ایسے تراشے بھی تھے جن میں مختلف افراد کی اموات اور ان کی جنازوں کی اطلاعات تھیں۔ بڑھاپے میں لوگ جوانی کی کامیابیوں کو یاد کر کے دل بہلاتے ہیں۔

ایک انتہائی پرانا پردہ اس کے پیچھے موجود کھڑکی پر جھول رہا تھا جس کا رنگ کبھی گہرا سبز رہا ہو گا لیکن اب کالا ہو چکا تھا۔ الماریوں کے خانے بھی اسی رنگ میں رنگے ہوئے تھے۔ اوپری خانے میں غلاف میں لپٹی کوئی مذہبی کتاب اور ایک دو موٹی جلد والے چھوٹے سے رسالے اور باقی شیلفوں میں پرانے برتن اور شیشے کی پتلی گردن والی خالی بوتلیں۔ اس بازار کی روایت کے عین مطابق کمرے میں دین و دنیا، دونوں کو دھوکا دینے کے سارے سامان موجود تھے لیکن سب ردی ہو چکے تھے۔

اس نے اپنا ہاتھ کمر کے گرد لپٹی چمڑے کی بیلٹ پر رکھا ہوا تھا جس کی ایک طرف پستول لٹکا تھا۔

”چھوٹا سا یہ پستول مجھے بہت عزیز ہے۔ میرا خاوند پولیس ملازم تھا اور اسلحے کا ماہر، اس نے سالگرہ پر تحفے میں دیا تھا۔ یہ ہتھیار میں ہر وقت اپنے ساتھ رکھتی تھی۔ کوئی گاہک سفلہ پن دکھانے لگتا تو یہ اسے راہ راست پر لے آتا۔ تمہیں شاید پتا نہ ہو یہ مرد نشے کا ڈھونگ رچا کر اوچھی حرکتیں کرنے لگتے ہیں بعد میں کہتے کہ ہوش میں نہیں تھا۔ میں پسٹل نکال لیتی تو سارا نشہ ہرن ہوجاتا اور جوانی گندی نالی سے پھر کر کے نکل جاتی۔

Back to list

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے