علی نعیم بنیادی طور پر ایک مجسمہ ساز ہے۔ پچھلے ایک عشرے میں جنوبی پنجاب کے اہم چوراہوں پر جتنے بھی مجسمے نصب ہوئے، وہ سب اُسی کی دِین ہیں، لیکن اُس نے کبھی اِس کا کریڈٹ لینے کی کوشش نہیں کی۔ وہ ایک منکسر المزاج فن کار ہے، جو نام سے کہیں زیادہ اپنے کام سے وابستہ ہے۔ اُس کے مجسمے ہماری ثقافتی زندگیوں کا ایک انمٹ حصہ ہیں، مگر اُس نے کبھی یہ باور نہیں کروایا۔ سچ کہوں تو اُس کی کسرِ نفسی اور فن کارانہ بے نیازی پر رشک آتا ہے کہ اِس کا دسواں حصہ بھی مل جاتا تو زندگی دِکھانے اور نظر آنے کے بجائے دیکھنے اور محسوس کرنے کا نام ہوتی۔ پھر شاید کہیں کوئی گوہرِ مقصود بھی مل جاتا۔ لیکن وائے افسوس، یہ ہو نہ سکا کہ بالشتیوں کی دنیا میں وضعداری اور عجز کا کیا کام؟
وہ ہمیشہ سے ایسا نہ تھا۔ مجھے وہ دن بھی یاد ہیں جب وہ اپنی اندرونی آگ سے بوکھلا کر ایک ایسے اٙڑیل گھوڑے میں تبدیل ہو گیا تھا، جو کائنات کی ہر شے کو اپنے سموں کی لمبائی سے ماپتا تھا۔ اُس نے اِتنا زہر پیا کہ اُس کی شریانیں نیلی پڑ گئیں۔ قریب تھا کہ وہ اپنے اندر کود کر خودکشی کر لیتا کہ ایک مہربان ہاتھ نے اسے پیار بھری تھپکی دی اور چمکار کر اپنی آغوش میں لے لیا۔ وہ اُن لوگوں میں سے ہے جنہیں محبت اور فن نے موم نہ کیا ہوتا تو وہ دنیا جلا دیتے۔
تخریب کی خو، شوقِ تعمیر میں بدلی تو وہ سرچشمۂ حیات کی تلاش میں نکل پڑا۔ اُس نے فطرت کے دامن میں بکھرے ہوئے تخلیق کے موتی اکٹھے کیے اور اُنہیں اپنے کینوس کی زینت بنا ڈالا۔ اُس کا شجرِ حیات بے رنگ ضرور تھا، مگر اِس کی قوسیں اور زاویے بولتے تھے۔ ”ٹینگلڈ/ اٙن ٹینگلڈ“ ایک ایسے مجسمہ ساز کی مصوری تھی، جس نے اپنی تخلیقی کائنات کی بے رنگی کو گویائی کی روشنی عطاء کی۔ بھلے یہ کام اپنی نوعیت میں تجریدی تھا، لیکن اس کے ذریعے علی نعیم نے زندگی اور اُس کے متعلقات کے ساتھ اپنے رشتے کو مضبوط کیا۔
”مسخاکے“ اُس کا اگلا پڑاؤ ہے۔ اِس بار مجسمہ ساز، کیری کیچر آرٹسٹ بن کر سامنے آیا ہے۔ کیری کیچر آرٹ میں صنعتِ مبالغہ سے کام لیتے ہوئے کسی بھی فرد کے خد و خال یا جسمانی ساخت کو کچھ اس طرح سے بڑھا، گھٹا یا تبدیل کر دیا جاتا ہے کہ اُس کی شباہت باقی رہے، مگر اُس کا شخصی تاثر بدل جائے۔ آرٹ کی یہ صنف بالعموم طنز و مزاح یا سماجی تبصروں کے لیے مستعمل رہی۔ اس سے کم و بیش وہی کام لیا جاتا رہا، جو مزاح نگار شخصی خاکوں سے لیتے ہیں۔ یہ بھی ایک دلچسپ امر ہے کہ اِس کے لیے ”مسخاکے“ کی اصطلاح مشاق احمد یوسفی نے وضع کی، جو اردو کے بلند پایہ مزاح نگاروں میں سے ایک ہیں۔
کیری کیچر آرٹ کی روایت بہت قدیم ہے۔ مغربی روایت میں دیکھا جائے تو ہیلنسٹک عہد میں دیوتاؤں اور فلسفیوں کی مبالغہ آمیز پیشکش اِس کا ابتدائی اظہار تھی۔ ارسطو کا یہ ماننا کہ صنعتِ مبالغہ کے ذریعے کسی بِھی شے کی خوبیوں اور خامیوں کو زیادہ وضاحت کے ساتھ پیش کیا جا سکتا ہے، اِس فن کو ایک عقلی جواز فراہم کرتا ہے۔ رومن عہد میں اِسے سیاسی مخالفین کا مذاق اڑانے کے لیے برتا گیا تو نشاۃ ثانیہ کے دوران اِسے انسانی بدن کی جزئیات اور اس کی باطنی دنیا بیان کرنے کا وسیلہ بنایا گیا۔ صنعتی انقلاب کے بعد اخبارات اور میگزینز کی آمد ہوئی تو ایک بار پھر اِس کا سیاسی پہلو غالب آ گیا، جو کسی نہ کسی شکل میں اب تک جاری ہے۔
برِصغیر کی بات کی جائے تو اجنتا اور ایلورا کے غاروں اور پرانے مندروں میں واقع دیوتاؤں، راکھشسوں اور انسانوں کی پیشکش کیری کیچر آرٹ کا مذہبی چہرہ سامنے لاتی ہے تو مغلیہ عہد کے منی ایچرز اِس کا ثقافتی پہلو منعکس کرتے ہیں، تاہم اس کا سب سے موثر سیاسی اطلاق ہمیں انیسویں صدی کی ”کالی گھاٹ مصوری“ میں دیکھنے کو ملا، جب اِس کے ذریعے برطانوی افسروں اور سپاہیوں کا مذاق اڑایا گیا۔
پاکستانی مسخاکے زیادہ تر سیاسی اور سماجی کمنٹری کے لیے استعمال کیے گئے۔ فیکا، جاوید اقبال، میکسم اور فاروق قیصر جیسے مسخاکہ نگاروں نے اخبارات اور رسائل سے منسلک رہ کر اِس فن کی ترویج کی۔ اُن کے کام کا بہ غور جائزہ لیا جائے تو اِس میں طنز و مزاح کے ساتھ ساتھ مزاحمت کا عنصر بھی ملتا ہے۔ اُنہوں نے سیاست دانوں کے ساتھ ساتھ اداکاروں اور کھلاڑیوں کو بھی مصور کیا۔ عصرِ حاضر کے معروف ادیب، روش ندیم نے بھی کچھ مسخاکے بنائے، تاہم اُن کا موضوع معاصر ادیب تھے۔
علی نعیم کے مسخاکے اپنے موضوع اور تکنیک ہر دو اعتبار سے معاصر پاکستانی روایت سے مختلف ہیں۔ اُس نے سیاسی اور سماجی کمنٹری یا مشاہیر کی مضحکہ خیز پیشکش کے بجائے اپنے دوستوں اور کولیگز کو موضوع بنایا ہے۔ کیری کیچر کی معاصر روایت ڈومئیر اور ہرش فیلڈ سے منسوب ہے، لیکن علی نے اِس سے انحراف کرتے ہوئے ڈائی و نچی کی روایت کو آگے بڑھایا، جس کے نمایاں اوصاف مونوکروم سکیچنگ، بصری گہرائی اور مفصل جزئیات ہیں۔ ڈائی ونچی کی طرح علی نعیم کا مقصد بھی اپنے کرداروں کی تحقیر یا ان کا مضحکہ اڑانا نہیں، بلکہ اُن کی ذات کے باطنی اوصاف کو اجاگر کرنا ہے۔ میں سمجھتا ہوں وہ اِس میں کافی حد تک کامیاب رہا ہے۔ اگرچہ اس نے پورے اجسام کے بجائے صرف چہروں کو ڈرا کیا، مگر اس کے باوجود ہر کردار ایک نئی جہت اور انکشاف لیے ہوئے ہے۔ بالعموم یہ کردار اپنی پیشانی اور ناک سے گفتگو کرتے ہیں۔ کچھ کرداروں کی پیشکش میں جنسی استعارے بھی استعمال ہوئے، جو اِنہیں مزید دلچسپ اور گہرا بناتے ہیں۔