سمَاعتوں کو نوید ہو کہ
ہوائیں خوشبو کے گیت لے کر
دریچۂ گُل سے آ رہی ہیں
برسوں ہوئے، گئی رات کے کسی ٹھہرے ہوئے سناٹے میں، ایک کچی عمر کی لڑکی نے اپنے رب سے دعا مانگی کہ وہ اُس پر اُس کے اندر کی لڑکی کو منکشف کر دے۔ دُعا قبول ہوئی اور اس لڑکی کو چاند کی تمنا کرنے کی عمر میں ذات کے شہِر ہزار دَر کا اسم عطا کر دیا گیا۔ پھر جب موسم آیا تو شہر ذات کی گلیوں میں زندگی نے خوشبو کھیلی اور بہار نے آنکھوں پر پھول باندھ دیے۔ انہی پھولوں کی پنکھڑیاں چنتے چنتے آئینہ در آئینہ خود کو کھوجتی یہ لڑکی شہر کی اس سنسان گلی تک آن پہنچی، جہاں سے اس نے مُڑ کر دیکھا تو دور دور تک کرچیاں بکھری ہوئی تھیں۔ اس لڑکی نے اپنے عکس کو جوڑنے کی سعی کی لیکن اس کھیل میں کبھی تصویر دھندلا گئی تو کبھی انگلیاں لہولہان ہو گئیں۔ یہ اس داستان کے منتخب جملے ہیں جو اس لڑکی نے اپنے پہلے مجموعہ کلام ”خوشبو“ کے پیش لفظ ”دریچہ گل“ سے جھانکتے ہوئے اپنے بارے میں ہمیشہ سنائی ہے۔ یہ لڑکی وہ شاعرہ ہے جس کے احترام کے لئے سب لوگ کھڑے ہوتے ہیں۔ پروین شاکر نے اپنی شاعری کے سفر کا آغاز ”خوشبو“ کے وطن یعنی خوش رنگ پھولوں، خوش نُما رَنگوں اور خوش نو طائروں کی وادی سے کیا مگر جلد ہی زندگی نے ان کی راہ میں کانٹے بچھا دیے۔ چونکہ وہ افتادِ طبع سے گلشن پرست واقع ہوئی تھیں لہذا انھوں نے پھول ہی نہیں کانٹے بھی چنے مگر، تخلیق کی دیوی ان کے ہاں چہرہ تبسم بہ چشمِ تَر آئی۔
ذات کے شہر ہزار دَر میں سے پروین شاکر نے جو دریا پار کیے ہیں اُن میں عشق و محبت کا ذکر خاص توجہ کے قابل ہے۔ بات یہ ہے عشقیہ شاعری بیشتر مرد شاعروں نے کی ہے اور اس میں مردوں ہی کے دل کی بپتا اور انہی کی رام کہانی بیان ہوئی ہے۔ برصغیر کی شاعری میں عورت عاشق ضرور ہے مگر شاعری کے خالق وہاں بھی اکثر مرد ہی ملتے ہیں۔ لہذا عشقیہ شاعری مردوں کی چیز بن کر رہ گئی تھی۔ اُردو کی حد تک تو یہ بات حتمی طور کی جا سکتی ہے۔ اگلے وقتوں کے ایک اردو شاعر نے تو عشق کی بات کے بارے میں عورتوں کی زبانی یہ تک کہا تھا کہ :
ہم بہو بیٹیاں یہ کیا جانیں
خواتین کی سیدھی سادی، نہایت بے ضرر قسم کی نظموں، غزلوں اور افسانوں کے ساتھ ان کے پورے نام شائع نہیں کیے جاتے تھے بلکہ صرف ناموں کے حروف اَوّل ایک شاعرہ (ز۔ خ۔ ش) صاحبہ تھیں۔ نہ جانے ان کا نام کیا تھا۔ شاید کسی گڑھ کے شیروانی خاندان سے تھیں۔ پھر ایک ( ح۔ ب) صاحبہ تھیں جو افسانے لکھتی تھیں۔ اس کی خبر نہ ہو سکی۔ خیر اب تو ماشاءاللہ خواتین شعراء کا ایک جمِ غفیر ہمیں معاصر ادبی منظر نامے پر نظر آتا ہے۔ لیکن اس کی ابتداء ایک بہادر خاتون عصمت چغتائی نے کی تھی۔ ان سے لے کر پروین شاکر تک اگر جائیں تو انسانی زندگی کا وہ کون سے پہلو اور انسانی نفسیات کا وہ کون سا گوشہ ہے جس کی تصویر کشی کسی صنفِ نازک نے نہ کی ہو؟ اس صف میں پروین شاکر نے بڑی سچی، کھری اور لفظ و بیان کی خوبیوں سے سجی ہوئی عشقیہ شاعری کی۔ اُن کے تیور تو یہی بتاتے ہیں کہ اس کا محرک تجربہ ان کے ہاں نہ محض زبانی جمع خرچ کی بات ہے اور نہ کوئی ایسا خیالی موضوع جو برائے ”شعر گفتنی خوب است“ کی ذیل میں آتا ہو۔ انھوں نے اس تجربے کو اپنے رَگ و پے میں محسوس کیا ہے اور اس کی مختلف حسیاتی اور نفسیاتی کیفیتوں کو کبھی کھلے صاف لفظوں میں بیان کیا اور کبھی استعارے میں لاکر عام کو خاص بنا دیا ہے۔
اپنے مجموعہ کلام ”خوشبو“ کے پیش لفظ میں پروین شاکر نے کہا تھا کہ ”وہ تخلیق کے تمام لمحوں میں صرف اپنے وجدان کے سامنے جواب دہ رہتی ہیں۔“ انہوں نے واقعی اس دعوے پر عمل بھی کیا ہے اور وہ سب کچھ ہمارے سامنے رکھ دیا ہے جس پر ان کے وجدان کی مہر ثبت تھی۔ اس میں وہ حسیات بھی شامل ہیں۔ اصول و اختلاط کے لمحوں کا حصہ ہیں اور جنہیں پروین شاکر نے بڑے سلیقے اور ہنر مندی سے لفظوں میں قید کیا ہے۔
خوشبو ہے وہ چھو کے بدن کو گزر نہ جائے
خود پھول نے بھی ہونٹ کیے اپنے نیم وا
چوری تمام رات کی تتلی کے سر نہ جائے
ایسا نہ ہو لمسِ بدن کی سزا ملے
جی پھول کا ہوا کی محبت سے بھر نہ جائے
آپ نے دیکھا کہ لمسِ بدن کی لذت کا ذکر پھول اور تتلی یا پھول اور ہوا کے حوالے سے ہوا ہے۔ مضمون کے لیے یہ پروین شاکر کا محبوب استعارہ ہے اور بار بار ان کے کلام میں آتا ہے۔ البتہ انہوں نے اپنے ایک غزلیہ شعر میں، اسے ایک نیا روپ دے دیا ہے۔
اک حجاب تہہِ اقرار ہے مانع ورنہ
گل کو معلوم ہے کیا دستِ صبا چاہتا ہے
اردو شاعری میں محبوب کے لئے گل کا استعارہ تو بہت عام ہے۔ پروین شاکر کے شعر میں بھی وہی گل ہے اور دست ِ صبا کی ترکیب بھی نئی نہیں۔ اپنے لغوی معنوں میں حافظ ؔسے اقبالؔ اور فیضؔ تک مسلسل چلی آتی ہے۔ یہاں پر وین نے اس میں ایک نئی اور گہری معنویت اس طرح پیدا کی ہے کہ گل دست ِصبا یعنی اپنے چاہنے والے کی خواہش سے واقف ہے اور سپردگی پر مائل بھی مگر اپنے اندر کے حجاب کے ہاتھوں مجبور ہے۔ غور کیجئے تو اس شعر میں گویا گل اور دست صبا کے ازلی ادبی رشتے یعنی اس گتھی کی نفسیاتی حقیقتوں کی نقاب کشائی کی گئی ہے جو کبھی آدم اور حوا کے ہاتھوں اُلجھی تھی۔ جبکہ اس کا مردانہ اظہار مبشر سعیدؔ کے اس شعر میں یوں ہے :
لمس کی بھیک ملے تیرے تمنائی کو
جسم کاسہ تو زمانوں سے بنایا ہوا ہے
بہر کیف، پروین شاکر کہتی ہیں کہ:
مدتوں بعد اس نے آج مجھ سے کوئی گلہ کیا
منصبِ دِلبری پہ کیا مجھے کو بحال کر دیا
منصبِ دلبری سے آپ کو غالب کا منصبِ شیفتگی یاد آئے گا مگر یہ نسبت بس یہیں تک محدود ہے۔ پروین شاکر نے منصبِ دلبری پر اپنی بحالی کے بارے میں جس انوکھے انداز سے سوچا ہے اور جس طرح محبوب کے مدتوں بعد گلہ کرنے کو اس کا جواز ٹھہرایا ہے وہ ایک خاص قسم کی نسائی عمومیت کا مظہر بھی ہے اور اسی آدم و حوا کی الجھائی ہوئی گتھی کا ایک تار بھی۔ آدم و حوا کے قصے کا حوالہ ایک چھوٹی سی نظم ”وصال“ میں براہ ِ راست بھی موجود ہے۔
مختصر یہ کہ عشق و محبت کے باب میں اس قسم کی نرم و نازک کیفیتوں کا بیان، ملائم اور حساس لب و لہجے میں پروین شاکر کی بہت سی غزلوں اور نظموں میں آپ کو ملے گا۔ اُردو کی عشقیہ شاعری میں یہ ایک ایسا دل پسند اور خوش آئند اضافہ ہے جو صرف ایک شاعرہ ہی سے ممکن تھا۔ شعراء حضرات اپنی کتھا صدیوں سے سنا رہے ہیں اور بہت کچھ سنا چکے ہیں۔ پروین شاکر کی شخصیت میں جو خود اعتمادی پائی جاتی ہے اور جس کی جھلکیاں ان کی شاعری میں بھی موجود ہیں اس کے سہارے انھوں نے زندگی میں مشکلات کا مقابلہ کیا ہے، سر اُونچا رکھا ہے اور گیت بننے اور خوشبو پھیلانے میں کبھی کوئی کمی نہیں آنے دی۔ مختصر عرصۂ حیات میں ”ماہِ تمام“ کی اشاعت اس کا بین ثبوت ہے۔