سولر پینلز پر ٹیکس نافذ – صارفین اور ماہرین کی شدید تشویش
حکومتِ پاکستان نے حالیہ بجٹ میں سولر پینلز پر جنرل سیلز ٹیکس (GST) اور دیگر درآمدی ڈیوٹیز عائد کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد صارفین، ماحولیاتی ماہرین، اور توانائی کے شعبے سے وابستہ افراد نے سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ وزارتِ خزانہ کے مطابق، یہ فیصلہ معاشی استحکام اور محصولات میں اضافے کے لیے کیا گیا ہے، تاہم سولر انڈسٹری کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ملک میں متبادل توانائی کی ترقی کو شدید متاثر کرے گا۔
صارفین پر اس فیصلے کے واضح اثرات مرتب ہوں گے۔ سولر سسٹمز کی قیمتوں میں 10 سے 20 فیصد اضافہ متوقع ہے، جس کے نتیجے میں عام شہریوں کے لیے گرین انرجی کا حصول مزید مہنگا ہو جائے گا۔ وہ صارفین جو گھریلو یا کمرشل بجلی کے بلوں سے بچنے کے لیے سولر توانائی پر انحصار کر رہے تھے، اب اس اضافے سے شدید متاثر ہوں گے۔
ماحولیاتی ماہرین اور توانائی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ حکومت کے کلین اینرجی ویژن سے متصادم ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ پاکستان جیسے توانائی بحران کا شکار ملک میں، سولر ٹیکنالوجی کو سستا اور قابلِ رسائی بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے اس فیصلے کو عوام دشمن قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ سولر پینلز پر تمام ٹیکسز فوری طور پر واپس لیے جائیں۔ سوشل میڈیا پر بھی اس فیصلے کے خلاف NoSolarTax کے ہیش ٹیگ کے ساتھ ٹرینڈ چل رہا ہے۔