ڈی چوک اسلام آباد میں رینجرز کے اہلکار کی جانب سے ایک کارکن کو کینٹینر سے دھکا دینے کی ویڈیو حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے۔ اس ویڈیو میں ایک کارکن کینٹینر کے قریب کھڑا نظر آتا ہے، اور رینجرز کا اہلکار اُسے دھکیل کر نیچے گرا دیتا ہے۔ ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد، سوشل میڈیا پر اس واقعے پر شدید ردعمل دیکھنے کو ملا، اور مختلف حلقوں کی جانب سے اس حرکت کو غیر مناسب اور طاقت کے غلط استعمال کے طور پر تنقید کی گئی۔
اس ویڈیو کی حقیقت جاننے کے لیے مختلف ذرائع سے تصدیق کی گئی ہے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق، یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کارکنوں نے اسلام آباد میں موجود کینٹینرز کے قریب احتجاجی مظاہرہ کیا۔ رینجرز کا مقصد وہاں امن و امان برقرار رکھنا تھا اور مظاہرین کی جانب سے کسی بھی قسم کی اشتعال انگیزی کو روکنا تھا۔
ویڈیو میں جس شخص کو دھکیلتے ہوئے دکھایا گیا، وہ پی ٹی آئی کا کارکن تھا جس نے کینٹینر کی طرف بڑھنے کی کوشش کی۔ اس کے بعد رینجرز کے اہلکار نے کارکن کو دھکیل کر نیچے گرایا تاکہ کسی بھی قسم کی مزاحمت کو روکا جا سکے۔ یہ واقعہ چند سیکنڈز تک ریکارڈ کیا گیا اور فوراً سوشل میڈیا پر شیئر ہو گیا۔
سوشل میڈیا پر اس ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد مختلف سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے افراد نے اس واقعے کی مذمت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ رینجرز کا یہ عمل غیر ضروری اور تشویشناک تھا، کیونکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مظاہرین کے ساتھ زیادہ تحمل اور پیشہ ورانہ انداز میں پیش آنا چاہیے تھا۔
دوسری جانب حکومتی حکام نے اس واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ رینجرز کی کارروائی مظاہرین کی جانب سے اشتعال انگیزی کے پیش نظر کی گئی۔ حکومتی نمائندوں کے مطابق، ایسے حالات میں جہاں احتجاج بڑھنے کا خدشہ ہو، فورسز کو مجبوراً سخت اقدامات کرنا پڑتے ہیں تاکہ امن و امان کی صورتحال کو کنٹرول کیا جا سکے۔
یہ ویڈیو پاکستانی سیاسی منظرنامے میں مزید کشیدگی پیدا کرنے کا سبب بنی ہے، اور اس پر عوامی ردعمل مسلسل بڑھ رہا ہے۔ تاہم، اس واقعے کے پس منظر اور رینجرز کی کارروائی کی وجوہات پر ابھی تک واضح تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں، جس کے باعث اس پر مزید سوالات اٹھ رہے ہیں۔ اس صورتحال میں اشتعال انگیزی سے گریز اور تحمل کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔