انگلستان میں نئی قانون سازی
کلاسیکی اردو شعرا کے کلام پر نظر دوڑائیں تو نالہ و شیون، شب بیداری، زندگی سے اکتاہٹ، خود اذیتی، رقیب، محبوب یا خود اپنے ہاتھوں موت کے مضامین کی تکرار ملتی ہے۔ میر تقی میر جن کی تقریباً نوے سالہ زندگی مسلسل آنسوؤں سے لبریز اشعار ڈھالتے ہوئی فرماتے ہیں
آہ سحر نے سوزش دل کو مٹا دیا
اس باد نے ہمیں تو دیا سا بجھا دیا
ان نے تو تیغ کھینچی تھی پر جی چلا کے میر
ہم نے بھی ایک پل میں تماشا دکھا دیا۔
مرزا غالب حضرت عزرائیل سے ملاقات کے اتنے منتظر تھے کہ ہر سال اپنی موت کی تاریخ نکالا کرتے اور سال گزرنے پر افسوس کیا کرتے۔
انگلستان کے دارالعوام یعنی قومی اسمبلی میں کل اکثریت رائے سے پاس ہونے والے بل کا عنوان کچھ یوں ہے :
”ایک بل جو لاعلاج بالغ مریضوں کو تمام تحفظات اور سیف گارڈز کے ساتھ یہ حق ودیعت کرتا ہے کہ ان کے مطالبے پر ان کی اپنی زندگی کا خاتمہ کرنے اور اس سے جڑے معاملات میں ان کی معاونت کی جائے گی“
یہ بل سیاستدانوں میں بہت جذباتی ابحاث اور تقسیم کا سبب بنا۔ اندازہ کیجئے کہ جہاں قدامت پسند ٹوری پارٹی کی موجودہ سربراہ اور کئی سابقہ وزرائے اعظم اس کی مخالفت کر رہے تھے وہیں پچھلے وزیر اعظم رشی سناک نے اس کی حمایت کی۔ خود حکمران لیبر پارٹی جس کی ایک رہنما نے یہ پرائیویٹ بل پیش کیا تھا کی صفوں میں واضح اور بلند آہنگ دراڑیں دیکھنے کو ملیں اب اگلے مرحلے میں بل کی نوک پلک سنوار کر اسے دارالامرا (ہاؤس آف لارڈز) میں پیش کیا جائے گا اور وہاں سے پاس ہو کر یہ قانون کا حصہ بن جائے گا۔ حامی اسے تاریخ کا انتہائی اہم موڑ کہہ رہے ہیں۔ جبکہ مخالفین کے نزدیک کل تاریخ انگلستان کا سیاہ ترین دن تھا۔ بل کی رو سے جب تک دو کنسلٹنٹ ڈاکٹر اور ہائی کورٹ کا ایک جج مریض کی درخواست پر تفصیلی غور و خوض نہ کر لیں اسے زندگی کے خاتمے کا اختیار نہیں دیا جاسکتا۔ ذہنی مریضوں کو یہ قانون اپنی حدود سے خارج قرار دیتا ہے۔
جان لینے میں طبی امداد سے کیا مراد ہے؟
نیویارک سٹیٹ بار ایسوسی ایشن کی تعریف کے مطابق ”جب کوئی صحیح العقل ناقابل علاج بالغ مریض جس کی میعاد زندگی چھ ماہ سے کم تسلیم کی گئی ہو طبیب کی تجویز کردہ دوا ’خود‘ لے تاکہ الم زدہ زندگی سے چھٹکارا حاصل کر کے ایک آسان موت سے ہم آغوش ہو سکے تو اس عمل کو طبی امداد سے موت یا طبی امداد سے خودکشی کہتے ہیں“
مریض کے بجائے اگر طبیب جان لیوا ادویات اپنے دستِ شفا سے مریض کے جسم میں اتارے تو اس عمل کو یوتھینیزیا کہتے ہیں۔ ان دونوں میں تصوراتی، اخلاقی اور قانونی لحاظ سے بہت بڑا فرق ہے۔
ایسے لاعلاج امراض کے روگی جو جان لینے کا براہ راست سبب بنتے ہیں چراغ آخر شب ہیں مثلاً آخری مدارج کے کینسر، موٹر نیورون ڈیزیز، ڈیمینشیا اور الزائمر، سانس اور دل کی کچھ بہت ایڈوانسڈ بیماریاں، پارکنسزم کی شدید شکل۔