پبلشرز کانفرنس کے اختتام کے بعد اب مجھے شارجہ بک فیئر کو دریافت کرنا تھا۔ یہ بک فیئر دنیا کا دوسرا بڑا بک فیئر ہے اور میں نے اس کے آغاز سے قبل اس کی تیاریوں کو بھی دیکھا تھا۔ جس وسیع پیمانے پر اس کتابی میلے کی سجاوٹ جاری تھی۔ اسے دیکھ کر احساس ہو رہا تھا کہ ترقی یافتہ قومیں کس قدر محنت اور جانفشانی سے کسی بھی تقریب کو کامیاب بناتی ہیں۔ میری خواہش تھی کہ میں اس کتابی میلے کی افتتاحی تقریب میں شرکت کروں لیکن مجھ پر یہ انکشاف ہوا کہ میں اس تقریب میں شرکت کی اہلیت نہیں رکھتی کیونکہ افتتاحی تقریب میں صرف لکھاری اور میڈیا سے متعلقہ کچھ لوگ موجود ہوں گے تب مجھے اپنے ان ساتھی لکھاریوں پر بہت رشک آیا جو وطن عزیز سے بطور مہمان امارات حکومت کی دعوت پر آئے تھے اور وہ اب افتتاحی تقریب میں شرکت کر رہے تھے لیکن اصولی طور پر دیکھا جائے تو یہ بات خوش آئند تھی کہ انتظامیہ لکھاریوں کو کتنی اہمیت دیتی ہے۔
ہمارے ہاں عموماً سب سے زیادہ استحصال اسی لکھاری طبقے کا ہی ہوتا ہے۔ خیر اب مجھ سمیت میرے ساتھی پبلشر اور ہمارے ساتھ موجود اردو بک ورلڈ کے روح رواں سرمد صاحب کو بھی افتتاحی تقریب کے ختم ہونے کا انتظار کرنا تھا جس کے بعد ہی ہم کتابوں کے اس حیرت کدہ میں داخل ہو سکتے تھے۔ اس سے پہلے میں گگن شاہد اور سرمد صاحب کے ساتھ ان کے وئیر ہاؤس پہنچی جہاں سے ہم نے بہت سی کتابوں کے بنڈلز بنا کر انہیں گاڑی میں رکھا کیونکہ یہ کتابیں سٹال پر رکھنی تھیں۔
آن لائن سب سے زیادہ بکنے والی کتابیں خریدیں
ہم پبلشرز نے اپنے ہوٹل کو الوداع کہہ دیا تھا، مجھے تو اب دبئی جانا تھا لیکن میرے ساتھی پبلشر نے ایکسپو جہاں بک فیئر تھا اس کے ساتھ ہی کوئی ہوٹل ڈھونڈنا تھا یقیناً اس کام میں وقت لگنا تھا، اس لئے فیصلہ یہی ہوا کہ سٹال پر میں چلی جاتی ہوں باقی دوست اپنے ہوٹل کی بکنگ کروا کر اطمینان سے آ جائیں۔ سو سرمد صاحب مجھے ایکسپو چھوڑ کر گگن کے ساتھ ہوٹل کی تلاش میں نکل گئے اور میں شارجہ کے اس کتابی حیرت کدے میں داخل ہو گئی جسے بک فیئر کا نام دیا گیا تھا لیکن میرا دل چاہا اسے کچھ اور نام دوں کوئی بہت پیارا اور منفرد نام، جو اس جگہ کی وسعت اور خوبصورتی کو بیان کر سکے۔
میں نے چند ماہ پہلے ہی ابو ظہبی بک فیئر ایکسپلور کیا تھا۔ اس لئے شارجہ کا یہ کتابی میلہ دیکھ کر مجھے بہت زیادہ حیرت نہیں ہوئی، ابو ظہبی بک فیئر میں سب سے خوبصورت سٹال مصر کا تھا جبکہ شارجہ بک فیئر میں موروکو کا سٹال دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا۔ میں نے وہاں چند تصاویر بھی بنوائیں۔ بعد میں مجھے پتہ چلا کہ موروکو اس بک فیئر کا گیسٹ آف آنر ہے اس لئے اس کے سٹال کو بہت زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے۔ شارجہ بک فیئر میں ہر سال ایک ملک گیسٹ آف آنر ہوتا ہے اور 2012 میں یہ اعزاز پاکستان کو مل چکا ہے۔