بہت خوشی کا عالم ہے کہ آج ہم اپنی دوست منجھی ہوئی ادیبہ صوفیہ بیدار صاحبہ کی اولین کتاب کی تقریب پذیرائی کے بہانے یہاں اکٹھے ہو رہے ہیں۔ کتاب کا نام ہی بہت منفرد ہے۔ رنگریز۔ اور اس میں بیان کردہ کہانیاں دلچسپ۔ پرمغز۔ رنگ رنگ کی۔ ایسی کہ انسان کو کچھ نہ کچھ سوچنے پر مجبور کر دیں۔ طاہرہ اقبال جیسی مہان ادیبہ صاحبہ صدر ہوں۔ دنیائے ادب کے درخشندہ ستارے ہمارے ارد گرد جگمگا رہے ہوں تو تقریب کا دلچسپ۔ محفل کا جوان اور حسین ہونا تو لازم ٹھہرتا ہے۔ صوفیہ بیدار کو ہم برسوں سے کالم نگاری۔ شاعری اور دیگر اصناف سخن میں طبع آزمائی کرتے۔ کمالات دکھاتے دیکھ رہے ہیں۔ مگر اب وہ ایک اسپ تازہ پر سوار افسانہ نگاری کے میدان میں بھی تیزی سے اگے بڑھتی اور اپنا مقام بناتی دکھائی دے رہی ہیں۔ گھوڑا سرپٹ دوڑ رہا ہے۔ اس کی آمد سے رن کانپ رہا ہے اور ہم خوش آمدیدی کا سرخ غالیچہ بچھائے انہیں اپنی بہترین خواہشات کا تحفہ دینے کو تیار بیٹھے ہیں۔
صوفیہ بیدار کے افسانے ایک عورت کے افسانے ہیں تو ظاہر ہے ان میں کچھ جدوجہد۔ کچھ فریاد۔ کچھ داد کچھ احتجاج بھی ضرور ہو گا۔ تو وہ ہے۔ ہر افسانہ کئی رنگ۔ انگ اور ڈھنگ لئے ہوئے ہے۔ پرتیں کھلتی جاتی ہیں تو قاری کی سوچ کے نئے زاویے عطا ہوتے ہیں۔ ان افسانوں میں سوچوں کی مشعلوں کی چمک ہے۔ جن کی ضو سے قاری کے ذہن میں بند اور قید میں احساس کے پرندے کو آزادی محسوس ہوتی ہے۔ اور وہ اچھا محسوس کرنے لگتا ہے۔ ان کہانیوں کی بارش کی ہر بوند قاری کو اپنی ہستی میں جذب ہوتی محسوس ہوتی ہے۔ سچ بات تو یہ ہے کہ آج کی دنیائے ادب اور خاص طور پر افسانہ نگاری کے میدان میں خواتین لکھاریوں نے خوب دھما چوکڑی مچائی ہوئی ہے۔ وہ ڈٹ کر ہر قسم کے موضوع پر قلم اٹھا رہی ہیں۔ ایسے ایسے احساس میں ڈوبے افسانے لکھ رہی ہیں کہ پڑھنے والا چونک چونک جاتا ہے۔
صوفیہ بیدار کی کہانیاں ہی لے لیجیے۔ انہوں نے اپنی تحریروں میں احساسات اور تخیلات کی ترسیل کے لئے۔ بوجھل تشبیہات کا سہارا نہیں لیا بلکہ سادگی اور پر کاری۔ عمدگی سے اپنے اطراف کی کہانی کہنے کی کوشش کی ہے۔ مصنفہ اپنے کرداروں کو ہمارے روبرو لا کھڑا کر دیتی ہیں۔ تو گھونگھٹ کے پٹ کھلتے چلے جاتے ہیں مگر افسوس کہ پیا پھر بھی نہیں ملتے اور پیاس باقی رہ جاتی ہے۔ یہ پیاس ہی تو ہوتی ہے جو تخلیق کار سے تخلیق کا جنم کرواتی ہے۔
رنگریز۔ کی بیشتر کہانیاں۔ محبت جیسے پیچیدہ۔ الجھے ہوئے مسئلہ لاینحل سمجھ میں نہ آنے والے تعلق کے بارے میں ہیں۔ اس موضوع پر حتمی طور پر کب کہیں کوئی فیصلہ دیا جا سکتا ہے۔ مرد عورت کا رشتہ ازل سے قائم ہے مگر ساتھ ساتھ متزلزل بھی رہا ہے۔ یہ اجنبیت اور انسیت کے الجھے ہوئے دھاگوں کا ایک ریشمی گولہ ہے جس کا سرا ڈھونڈنا بہت مشکل ہے۔ مرد عورت ہمیشہ ساتھ رہیں گے۔ لڑیں گے۔ بھڑیں گے۔ مگر ہارمونز کی مقناطیسی کشش اور ضرورتوں کے سنجوگ کی مجبوریوں کے رشتے انہیں باندھ رکھیں گے۔ شاید بنانے والے نے ایسے ہی کسی پروگرام کے تحت مرد اور عورت کو بنایا ہے کہ جیو تو ایسے۔ ہر حال میں جیو۔ خوش فہمی کا بس ایک علیحدہ سا پروگرام ہوتا ہے۔ ضروری نہیں کہ زندگی کے بھنڈار سے تمہیں اپنا حصہ بھی مل جائے۔ صوفیہ کے بہت سے افسانے خود کلامی محسوس ہوتے ہیں۔ ایک جگہ وہ کہتی ہیں۔ محبت ایک طرح کا پاگل پن ہے۔ نہ سمجھنے کا نہ سمجھانے کا۔ پھر کہتی ہیں خاموش لڑائیاں کتنی پر شور ہوتی ہیں۔ اعصاب شکن تنہائی ایک ایسی اگ ہے جس میں ہر انسان ہی جلتا ہے۔ میں اس بات سے کلی طور پر اتفاق کرتی ہوں۔ ایک اور جگہ صوفیہ نے لکھا ہے۔ عشق تو صرف شادی شدہ عورت ہی کرتی ہے۔ کنواریاں تو صرف رشتے ڈھونڈتی ہیں۔ کیونکہ ظاہر ہے ان کو اپنا مستقبل محفوظ کرنا ہوتا ہے۔ روٹی کپڑا اور مکان مل جائے تو عشق محبت کی طرف دھیان جاتا ہے۔ سچ تو ہے شادی ہو جائے تو بھی عورت محبت اور عشق کی متلاشی ہی رہتی ہے۔ کیونکہ اکثر شادیاں دلوں کے ویران کونے آباد کرنے میں ناکام رہتی ہیں۔
اپنوں کے لیے بہترین گفٹس
میرا خیال ہے صوفیہ کے اس اعلیٰ و ارفع خیال پر سنجیدگی سے مطالعے کی ضرورت ہے۔ یونیورسٹیوں میں اس پر تھیسز لکھوائے جانے چاہیے۔ ادب فیسٹیولز میں اس پر مذاکرے کروائیں جائیں تو کوئی حرج نہیں ہو گا۔ بہت سے لاعلموں کے علم میں اضافہ ہو سکے گا۔ دیکھا جائے تو تاریخ واقعی ایسی کہانیوں سے بھری پڑی ہے جہاں شادی شدہ عورتوں نے دھڑلے سے عشق کیا اور تھرتھلی مچا کے رکھ دی۔ اپ حضرت یوسف اور زلیخا کی کہانی۔ دیکھ لیں اینا کرینینا کا مطالعہ کر لیں اور اپنے مقامی love guru ممتاز مفتی کی حیات کھنگال لیں۔ ماشا اللہ ان سب کی زندگی میں برکات و فیوض۔ ہلچل۔ ہنگامہ رنگینی نوبہار۔ شادی شدہ عورتوں ہی کی وجہ سے تو ممکن ہوئی تھی۔ اور کنواریوں میں اتنا دم کہاں ہوتا ہے۔ عورت بڑی جی دار۔ اور ہمت والی ہوتی ہے۔ محبت میں پہلا اور اخری قدم اٹھانے سے ہچکچاتی نہیں۔ صوفیہ کہتی ہیں عورت فطری طور پر دلیر۔ نڈر اور رسک لینے والی ہوتی ہے۔ سر پھری انجام سے بے خبر۔ دیوانی۔ مستانی۔ بے خطر۔ اصل میں عاشق تو عورت ہی ہوتی ہے۔ عشق کے الاؤ میں کودتے سمے اسے کوئی خیال نہیں اتا۔ اب ساری پنجابی فلموں کی ہیروئنیں کو ہی دیکھ لیں۔ اپنے پیٹ کے بارہ تیرہ بلوں کے باوجود وہ ایک کاٹھ کے بنے۔ جذبات سے عاری۔ عمر رسیدہ وگ زدہ ہیرو کے اگے کیسے کیسے بھنورا بن کے ناچتی ہیں۔ وہ اللہ کا بندہ بت بنا کھڑا رہتا ہے۔ مجال ہے جو اس پر کوئی اثر ہو جائے۔ وہ اگے بڑھ کر فرط جذبات میں اپنی توند ہلا لے۔ لڑکی کو چھولے۔ نہیں وہ تو بس مصلحت پسندی کی وجہ سے کھڑا اس کا اظہار محبت دیکھ رہا ہوتا ہے۔ اور ہیروئین ہر ہر طرح اسے لبھانے کی کوشش کرتی ہے۔ سوہنی سویٹ کو ہی دیکھ لیں۔ ادھی رات کو مٹی کے گھڑے پر تیر کر مہینوال تک جا پہنچتی ہے اور وہ سست الوجود عاشق دوجے کنارے بیٹھا مچھر مارتا اور مرلی بجاتا رہ جاتا ہے۔ بھئی تو بھی ذرا ہل کے دیکھ لے۔ رات گئے لڑکی تیر کر کنارے پر پہنچی بھی ہے کہ نہیں۔
اپنوں کے لیے بہترین گفٹس
تو بھائیو اور بہنو مان لو کہ عشق کرنا عورت کا ہی کام ہے، مرد کے بس کا روگ نہیں۔
صوفیہ بیدار کے افسانوں میں کئی مزے دار جملے پڑھنے کو ملتے ہیں۔ ایک جگہ وہ کہتی ہیں جنت بور لوگوں کے لیے بنی ہے جہاں۔ نہ چغلی۔ نہ چٹکی۔ نہ انکھ مٹکا نہ چھیڑخانی۔ نہ موسیقی۔ نہ لائبریری۔ یہ اضافہ میری طرف سے کہا گیا ہے اف کس قدر بوریت کا سماں ہو گا وہاں۔ راتیں۔ موسم۔ ندی کا کنارہ۔ چنچل ہوا اور اسے انجوائے کرنے والے باریش عطر سے بوجھل بدن والے ہر قسم کی کشش سے محروم مرد حضرات جو جنت کی جم میں کسرت کرنے کے لیے لائنوں میں لگے ہوں گے ۔ کیونکہ انہیں روز کم ازکم 72 دفعہ خود کو ٹارزن ثابت کرنا ہو گا۔ کتنی مشکل جاب ہے توبہ۔ ایک ہم عورتوں کو تھکے ہارے۔ بوسیدہ۔ متروک پرانے شوہر ملیں گے جن پر بیٹھی مکھیاں اڑاتے ہم خود بہت بور ہو رہی ہوں گی۔
صوفیہ بیدار افسانے لکھتی رہو۔ اسمان سے آگ چراتی رہو۔ رنگوں کی برسات تم پر ضرور برسے گی۔ تمہاری بیداریاں اور آگاہیاں بڑھتی رہیں گے۔ اور سلسلہ تخلیق رواں رہے گا۔ یہ کتاب انسانی نفسیات کے کئی رنگوں کی بلاشبہ ایک متاثر کن روداد ہے۔ اپ کو رنگریزیاں مبارک ہوں