ادب نامہ

کافر عشقم

کافر عشقم آغا گل کا تازہ ترین رومانوی ناولٹ ہے، جس میں ملک سے باہر کوئٹہ والوں کی پرخلوص محبت کی عکاسی کی گئی ہے۔ ناولٹ کا ہیرو ‏فرید اور ہیروئن ایک خوب صورت گوری لڑکی کینوی ہے۔ متوازی کرداروں میں داروخان، بلال، اشیش، آرعیا اور اوبون شامل ہیں۔ ‏

ناولٹ کا آغاز یوں ہوتا ہے کہ فرید کے بابا اور دادا اکبر خان کی خواہش ہے کہ اپنے اکلوتے وارث فرید کو بلوچستان میں جاری قتل و غارت، ‏دہشت گردی، اغوا برائے تاوان، جبری گم شدگی اور ماورائے عدالت قتل سے بچا کر تھائی لینڈ میں اپنے جیولر دوست داروخان ‏اچکزئی کے پاس بھیج دیں تاکہ وہاں وہ جیولری کا کام سیکھ کر اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کے قابل ہو جائے۔ بابا اور دادا اکبر خان کو ‏یقین تھا کہ اگر بٹوارے کے دوران میں وہ انڈیا سے ہجرت کر کے پاکستان نہ آتے تو اب وہ بلوائیوں کے ہاتھوں کب کے قتل ہوچکے ‏ہوتے۔ اب چوں کہ بلوچستان میں حالات ٹھیک نہیں ہیں تو فرید کو باہر بھیجنا ایک دانش مندانہ فیصلہ ہو گا۔ سو فرید تھائی لینڈ سدھار گیا۔

ناولٹ میں بلوچستان کے خراب حالات کا تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے، اور بعض اوقات تواتر سے یہ ذکر قاری کے ذوق سلیم پر گراں بھی ‏گزرتا ہے۔ تاہم، جن حالات کا جس طرز سے جائزہ لیا گیا ہے، وہ مکمل مبنی بر حقیقت ہیں۔ ناولٹ میں دادا اکبر خان اور داروخان کو ‏نہایت تجربہ کار اور سمجھ دار کرداروں کے بہ طور پیش کیا گیا ہے۔ دادا اکبر خان کہتے ہیں کہ بٹوارے کے بعد امریکہ کو پاکستان کی شکل میں ‏ایشیاء اور بحرہند میں آپریٹر مل چکا ہے۔ اب امریکہ کے لیے اس آپریٹر کی مدد سے وہاں کے وسائل پر قبضہ جمانا اور کمیونزم اور ‏سوشلزم کو کنٹرول رکھنا بہت آسان ہو گیا ہے۔ اور اس کارخیر کے لیے بھارت میں پنڈت ازم اور پاکستان میں ملا ازم خوب سرگرم ‏رہے ہیں۔ ‏

فرید کا بابا چوں کہ خود بھی تین سال تک تھائی لینڈ میں رہا تھا اور اس کو یقین تھا کہ فرید داروخان کی سرپرستی میں ضرور کامیاب بن کر ‏لوٹے گا۔ فرید کو ائرپورٹ پر دارو خان کے مارکیٹنگ افسر بلال نے خوش آمدید کہا۔ داروخان نے فرید کو نصیحت کی کہ یہ دنیا وقت ‏کے ساتھ ساتھ چلنے والے محنتی انسانوں کے لیے نہایت موزوں جگہ ہے اور تھائی لینڈ سیاحت اور سیکس پر چل رہا ہے۔ لہذا حسین ‏لڑکیوں کے ساتھ محتاط رہنا۔ داروخان نے مزید بتایا کہ ہجوم میں شرکت نہ کرنا، پاکستانیوں سے دور رہنا اور پاکستانی لباس یعنی شلوار قمیض نہ پہننا۔ ‏

فرید نے جوں ہی مارکیٹنگ کالج میں داخلہ لیا تو وہاں ایک خوب صورت گوری کینوی سے سامنا ہوا۔ کینوی سے ملتے ہی فرید پگھل گیا اور ‏داروخان کی تمام تر نصیحتیں بھول گیا۔ عشق پر کسی کا زور نہیں، سو فرید بھی کینوی پر فریفتہ ہو گیا۔ کینوی کا حسن کولواہ کی دوپہر، کلمت کی ‏سہ پہر اور گوادر کی شام جیسا تھا۔ فرید کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ ایک حسین عورت آخر جو نیپر کا کوئی پراسرار جنگل ہے، کوہ چلتن ہے، ‏کوہ زرغون ہے یا کوہ خلیفت ہے؟ یہ کہاں سے شروع ہوتی ہے اور کہاں پر ختم ہوتی ہے؟ شاید حسین عورت کھل جا سم سم ہو۔ کینوی ‏ اور فرید اب ہمیشہ ساتھ ساتھ رہتے اور کینوی نے فرید کو سارے بینکاک کی سیر بھی کروا دی۔ کینوی نے فرید کو ہاسٹل کے بجائے اپنے گھر ‏میں رہنے پر بھی مجبور کیا اور فرید بھی کینوی کے شبستان میں آباد ہونے لگا۔

فرید متوازی محبت کرنے میں بھی یکتا تھا۔ وہ پیڈپانگ (ہیرا منڈی) میں بھی ایک خوب صورت قتالہ اوبون کی محبت کا اسیر ہو چکا تھا، ‏تاہم کینوی کی بات کچھ اور تھی۔ فرید نے محبت میں کینوی کا ایک لاکھ بھات قرضہ بھی ادا کیا تھا۔ کینوی اب ہر لمحہ فرید پر نچھاور ہو رہی ‏تھی۔

مارکیٹنگ کورس مکمل کرنے کے بعد اب فرید ایک ماہر جوہری بن چکا تھا۔ داروخان نے فرید کو جیولری کا کاروبار کرنے کے لیے واپس ‏بلوچستان بھیجا۔ کینوی نے خودکشی کرنے کی دھمکی دی۔ فرید ہر لحاظ سے عاجز تھا کہ ایک بدھسٹ گوری عورت سے کس طرح شادی ‏کریں۔ فرید ائر پورٹ پہنچا، جہاز میں سوار ہوا اور سیٹ پر بیٹھا۔ جہاز اڑان بھرتے ہی فرید کے ساتھ ایک برقعہ پوش خاتون سیٹ پر ‏آ کر بیٹھ گئی۔ یہ کینوی تھی جو مشرف بہ اسلام ہو گئی تھی اور اب فرید کی بیوی بن کر باقی زندگی کوئٹہ میں گزارنا چاہتی تھی۔

ناولٹ میں طنز کے ساتھ ساتھ ظرافت اور فلسفے کی چاشنی بھی پائی جاتی ہے۔ عورت کے حسن کے متعلق لکھتے ہیں :‏

‏ ”ایک ماسٹر ڈگری حسن کی بھی ہونی چاہیے جو صرف حسین خواتین کو دے دی جائے۔ یہ ایک نئی ڈگری ہونی چاہیے جو سب ڈگریوں ‏پر بھاری ہو۔“ ‏

‏ ”تھائی لینڈ کی معیشت اور خوش حالی کو عورتوں نے آسمان پہ چڑھا رکھا تھا۔ چھوٹی چھوٹی تھائیاں کیا قیامت ہیں۔ اگر بیس بیس فٹ کی ‏ہوتیں تو ملک سپر پاور بن جاتا۔“ ‏

حسین عورتوں کے مختصر لباس کے متعلق لکھتے ہیں :‏

‏ ”سارا کپڑا تم لوگ لے گئے پہننے کے لیے۔ یہاں قحط پڑ گیا ہے کپڑے کا۔ یہ بے چاریاں دھاگے پہن کر پھر رہی ہیں۔ تین دھاگے فی ‏لڑکی۔“ ‏

‏ ”قدرت نے لڑکی بنانا ہی تھا تو کچھ پرزہ پاٹ بھی لگاتا۔“ ‏
فلسفیانہ باتیں بھی ملاحظہ ہو، ‏
‏ ”انسان تو کیا دیوتا بھی تعریف سے خوش ہوتا ہے۔“ ‏

‏ ”سارک ممالک کے لوگوں کو عموماً غریب سمجھا جاتا ہے۔ اس لیے پیشہ ور لوگوں کو اپنی مالی حیثیت کے تعین میں خاصی دشواری پیش ‏آتی ہے۔“ ‏

‏ ”جو اللہ سے ڈرے، وہ نیک کہلاتا ہے۔ جو سماج سے ڈرے، وہ شریف کہلاتا ہے۔ نیک نہ بن سکو تو شریف ضرور بننا۔“ ‏

مجموعی طور پر ناولٹ کا پلاٹ سادہ اور کہانی دل چسپ ہے۔ ناول میں بلوچستان کی جغرافیائی، سماجی، معاشی اور سیاسی عکاسی کی گئی ہے۔ ‏اس ناولٹ میں آغا گل کے انقلابی نظریات میں کوئی تبدیلی دیکھنے کو نہیں ملتی، البتہ ان کے دیگر ناولوں اور افسانوں کے برعکس اس ناولٹ میں ‏کوئٹہ وال اردو کے آثار کم ملتے ہیں۔ ایک بات قابل ذکر ہے کہ آغا گل نے خود بھی تھائی لینڈ سے مارکیٹنگ کی ڈگری حاصل کی تھی۔ کہیں یہ وہی رومانوی روداد تو نہیں؟ واقعہ جو کچھ بھی ہو، مگر یہ بلوچستان میں ناول نگاری کے باب میں ایک قابل قدر اضافہ ضرور ہے

Back to list

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے